
یوپی سنی وقف بورڈ اسلامی شعائر اور اوقاف سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ قومی ناظم عمومی١٩/ مئی ٢٠٢١ء، شاہین باغ، نئی دہلی۔ آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا محمد احمد بیگ ندوی نے بلاکسی وجہ اور بلاکسی پیشگی نوٹس کے ضلع افسران کے ذریعے رام سنیہی گھاٹ تحصیل، ضلع بارہ بنگی کی سو سالہ پرانی مسجد غریب نواز کی شہادت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ: ”یہ ظلم پرور عناصر اس قدر بے لگام کیسے ہو سکتے ہیں؟ کسی قانونی جواز کے بغیر رات کے اندھیرے میں، بلوائیوں کی شکل میں، پولیس کی بھاری تعداد مسجد کو کیسے شہید کر سکتی ہے؟ پولیس افسران، امن و شانتی کے محافظ ایسی غنڈہ گردی کیسے کر سکتے ہیں؟ کیا یہ لوگ قانونی گرفت سے آزاد ہیں؟ کیا اِن کے لیے انسانیت کا کوئی ضابطہ اور قانون و دستور سے ان کا کوئی رشتہ نہیں ہے؟“۔ انھوں نے کہا کہ: ”اترپردیش سنی وقف بورڈ میں درج شدہ ”مسجد غریب نواز“ کے نام سے معروف سوسالہ قدیم مسجد کو بلاکسی وجہ کے وہ بھی پولیس انتظامیہ کی بھیڑ کے ذریعے شہید کیا جانا انتہائی تشویشناک ہے۔ اس طرح کے واقعات پر عدالت کو سخت موآخذہ اور عوام کو سخت مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے“۔ انھوں نے کہا کہ: ”اس طرح کی کارروائیوں سے علاقے کے لوگوں کونہ تو خوف زدہ ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی مایوس؛بلکہ اِن مظالم کے خلاف حوصلے کے ساتھ جمہوری طریقے پر لڑنے اور مضبوط قانونی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ آل انڈیا امامس کونسل ہر قدم پر مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہے گی“۔ آل انڈیا امامس کونسل کے قومی ناظم عمومی مفتی حنیف احرار سوپولوی نے کہا کہ: ”اس طرح کی یکطرفہ کاروائی ناقابل برداشت ہے۔ عدالت فوراً اس پر ایکشن لے، خاطی افسران کو فوری طور پر نوکری سے برخاست کرے۔ حکومت مسجد کی زمین پرکسی قسم کی دست درازی کیے بغیر اسی جگہ پر مسجد تعمیر کراکے مسلمانوں کے حوالے کرے۔بہ صورتِ دیگر آل انڈیا امامس کونسل قانونی طور پر ہر ممکن لڑائی لڑے گی“۔ قومی ناظم عمومی نے کہا کہ: ”آل انڈیا امامس کونسل تمام مسلمانوں کے ساتھ، اُترپردیش سنی وقف بورڈ سے گزارش کرتی ہے کہ مسلم اوقاف اور اسلامی شعائر کے تحفظ کے تعلق سے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، اسلامی امانتوں کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مسلم نوجوانوں میں اس کی بیداری پیدا کریں اور حوصلے کے ساتھ ہر طرح کی قانونی کارروائی کریں“۔