
٢٢/ اپریل، ٢٠٢١، شاہین باغ، نئی دہلی۔ مشہور مصنف، منفرد قلم کار، معروف شخصیت اور الرسالہ کے مدیر مولانا وحیدالدین خاں صاحب کا انتقال انتہائی افسوس ناک خبر ہے۔آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا احمد بیگ ندوی نے کہا کہ: “پچھلے کچھ سالوں سے اہم اہم شخصیات کی رحلت کا افسوسناک تسلسل رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے، یک بعد دیگرے اسلامی قدآور شخصیات کا گزرنا امتِ مسلمہ کے لیے انتہائی صبر آزما ہے”۔انھوں نے کہا کہ: “مولانا وحیدالدین خاں باضابطہ عالم نہیں تھے؛ مگر کثرت مطالعہ سے انھوں نے عربی، انگریزی اردو اور دیگر زبانوں پر بڑی مہارت حاصل کرلی تھی۔ ان کا پسندیدہ موضوع “اسلام کی دعوت” تھا۔ انتہائی ذہین و فطین، وسیع النظر اور قادر القلم مصنف تھے، وہ یکسوئی کے ساتھ کام کرنے کو پسند کرتے تھے، انھوں نے چھوٹی بڑی ٢٠٠ کے قریب کتابیں لکھی ہیں۔ بہت سے مسائل میں معاصر علماء سے ان کا اختلاف تھا۔ بیشتر اختلافات طریق و منہج اور تربیت کا تھا۔ تحریر و تصنیف آپ کا محبوب مشغلہ تھا اور آپ سنجیدہ تحریکی سوچ کے مالک تھے۔مولاوحیدالدین خاں کافی عرصے سے بیمار چل رہے تھے۔ کچھ دنوں قبل انہیں دہلی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ جہاں ان کا انتقال 21/4/21 کو 9:45 پونے دس بجے رات کو ہوا۔ ان کی پیدائش یکم جنوری 1925 کو اعظم گڑھ کے دور افتادہ گاؤں بڈھیریا میں ہوئی تھی۔ آپ کی عمر 96 سال تھی۔ آپ کے پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اور ہم سب کو صراط مستقیم پر گامزن رہ کر ملک و ملت کے کام آگے لے کر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین