
شاہین باغ، اوکھلا، نئی دہلی۔ 5،اپریل، 2021۔”سستی شہرت کے لالچی یتی نرسنگھانند کی پیغمبر اسلام کے خلاف زبان درازی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ مسلمانوں اور ہندووں میں نفرت کو بڑھاوا دینے کے لیے اس شرپسند نے ہر حد پار کر دی ہے۔ مذہب کے نام پر نفرت کا کاروبار کرنے اور عوام میں فساد کی آگ لگانے والا یہ شخص آئے دن زہر اُگل رہا ہے؛ لیکن اِس دیش دروہی کے خلاف بی جے پی حکومت نہ تو کچھ بول رہی ہے اور نہ ہی اس مجرم کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کر رہی ہے۔اسلام انسانیت کا مذہب ہے، وہ غنڈہ گردی اور ظلم و فساد کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیتا ہے، اسی وجہ سے ان انسانیت کے دشمنوں کو اسلام سے تکلیف ہے۔ حکومت فوراً ایسے انسانیت کے دشمن اور مذہبی رہنماؤں کی شان میں بد زبانی کرنے والوں پر لگام کسنے“۔ ان باتوں کا اظہار آل انڈیا امامس کونسل کے قومی ناظم عمومی مفتی حنیف احرار سوپولوی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ: ”اسلام نہ تو کسی مذہب کا دشمن ہے اور نہ ہی کسی مذہب کے ماننے والوں کا۔ اسلام ظلم و زیادتی اور حق تلفی کے خلاف ہے۔ اسلام میں قتل ناحق اور ایک بے قصور کو مارنا پوری انسانیت کو مارڈالنے کے برابر ہے۔ اسلام میں عورتوں کی عزت لوٹنا تو دور اس کی طرف غلط نیت سے دیکھنا بھی حرام ہے۔ اسلام پانی پینے کے لیے آنے والے بچے کو مارنے کی نہیں؛ بلکہ ہر پیاسے کو شفقت سے پانی پلانے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام میں تمام مذاہب کے رہنماؤں کی عزت کرنے اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مسجدوں کے دروازے کھلے رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام میں کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں، خاندان اور نسل کی کوئی برتری نہیں ہے۔ اسلام سب کو برابری کا مقام دیتا ہے، جو ان فرقہ پرست برہمنوں، برہمن نوازوں اور برہمنیت کے مکڑجالے میں گرفتار دوسرے لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہا ہے، اسی وجہ سے اسلام کے خلاف طرح طرح کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے“۔ اسلام برہمنیت کی طرح چھپانے والا مذہب نہیں، جس کے اشلوک کوئی نہیں سن سکتا، جس کے مندر میں کوئی غیر برہمن نہیں جا سکتا؛ بلکہ اسلام سب کے لیے عام ہے۔ اس کو پڑھنے، سمجھنے اور اس کو قبول کرنے کی سب کو دعوت دی جاتی ہے، جو برہمنوں کے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ: ”جہاں تک اسلام پر الزام لگانے کی بات ہے کہ: ”اسلام رہے گا تو سب کو مار دیا جائے گا تو مسلمانوں نے اس ملک پر ہزار سال تک حکومت کی ہے؛ لیکن آج کی طرح اس وقت بھی غیر مسلم بھائیوں کی تعداد زیادہ ہی تھی۔جس سے فسادی یتی نرسنگھانند کے الزام تراشی کی حقیقت کھل جاتی ہے۔اب اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ شخص کتنا فاسد، زہریلا اور ملک و سلامتی کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے؟“۔ قومی ناظم عمومی مفتی حنیف احرار نے کہا کہ: ”یہ شخص ہر وقت فسادات بھڑکانے اور سادہ لوح غیر مسلم بچوں کے ذہنوں میں نفرت بھر کر، دو کمیونٹیوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے؛ اس لیے آل انڈیا امامس کونسل حکومت اور عدالت سے مطالبہ کرتی ہے کہ: ملک کے امن و امان اور مذہبی رواداری کو بحال رکھنے کے لیے یتی نرسنگھانند اور اس کے فسادی ساتھیوں کے خلاف فوری طور پر کڑی قانونی کارروائی کرے اورتمام مسلمانوں سے گزارش کرتی ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں ایسے فسادیوں کے خلاف قانونی طور پر کیس درج کریں“۔۔