
نئی دہلی۔ دہلی وقف بورڈ (ڈی ڈبلیو بی) کے املاک اور دہلی حکومت کے گزٹ میں شامل، لودھی روڈ کے علاقے حضرت نظام الدین اولیاء درگاہ کے قریب واقع، 200 سال پرانی “لال مسجد” پر قبضہ کر کے اس کے احاطے میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے دفتر کی تعمیر کی کوشش انتہائی شرمناک حرکت ہے۔ اور حضرت نظام الدین پولیس اسٹیشن کے پولیس انسپکٹر کے ذریعے مسجد کے عملے کو مسجد کا احاطہ خالی کرنے کی دھمکی دینا اس سے زیادہ خطرناک ہے۔ بابری مسجد اوقاف کی ٧٢، ایکڑ زمین کو زبردستی ہتھیانے کے بعد سے اس طرح سازشیں زوروں پر ہے، مسلم رہنماؤں، اوقاف کے ذمہ داروں اور مسلم عوام کو اس تعلق سے بیدار مغزی کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے- ان باتوں کا اظہار آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا احمد بیگ ندوی نے کیا۔انھوں نے کہا کہ: “اس مسجد کی نگہداشت قانونی طور پر دہلی وقف بورڈ کے ذریعے کی جارہی ہے؛ لیکن بورڈ کی عدم توجہ اور غیر ذمے دارانہ رویے کے سبب اور مسجد کے نگراں حبیب الرحمن صاحب کے انتقال کے بعد سے حکومت مسلسل اس مسجد کو للچائی نظروں سے دیکھ رہی ہے”انھوں نے کہا کہ: “وقف بورڈ کی نظر انداز ی ہی کے سبب مرکزی وزارت شہری امور کے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفیسر (ایل ڈی او) سی آر پی ایف دفاتر کی تعمیر کے لیے لال مسجد سمیت ایک قبرستان کی وقف اراضی کی 2.33 ایکڑ اراضی بیرکس، کینٹین اور پارکنگ کے لیے ٢٥، فروری ٢٠١٧ کو ہی مختص کرچکی ہے۔ جب پولیس اسٹیشن میں اس کی شکایت کی گئی تو شکایت درج کرنے میں پولیس اسٹیشن نے پانچ مہینے لگا دیے۔29 جولائی 2017 کو حضرت نظام الدین پولیس سے اپنی شکایت میں وقف بورڈ نے بتایا کہ: “سی آر پی ایف کو الاٹ کئے گئے پلاٹوں کو جو خسرہ نمبر 360 اور 361 کے تحت ہے، اس کو 31 دسمبر 1971 کے قبرستان اور لال مسجد کے طور پر دہلی حکومت کے گزٹ میں دکھایا گیا ہے؛ اس لیے ان پلاٹوں پر کسی بھی طرح کی کوئی بد امنی یا تعمیراتی سرگرمی بند کی جائے۔ یاد رہے کہ: “لال مسجد پر قبضہ کرنے کے لیے اسی طرح کی کوششیں ماضی میں بھی دو بار 2017 اور 2019 میں کی گئیں۔ تاہم دونوں ہی موقعوں پر وقف بورڈ چیئرمین امانت اللہ خان اور اس وقت کے دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی مداخلت کی وجہ سے کامیابی نہیں ملی”۔آل انڈیا امامس کونسل اس طرح کی غنڈہ گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی عدالت سے مطالبہ کرتی ہے۔