
نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ پیگاسس جاسوسی سافٹ ویئر کی مدد سے حیران کن جاسوسی ناقابل معافی ہے۔مرکزی بی جے پی حکومت نے اس مذموم حرکت کا منصوبہ بنایا ہے جس کیلئے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو فوری طور پر استعفی دینا ہوگا۔ اس گھناونے جرم کے سازشوں کو افشاں کرنے اوراس سے جو نقصانات ہوئے ہیں اس کے حقائق کو معلوم کرنے کیلئے چیف جسٹس آف انڈیا یا جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے تحقیقات کیا جانا ہی ایک واحد راستہ ہے۔ اسرائیلی ٹکنالوجی کمپنی این ایس او گروپ جس نے پیگا سس اسپائی ویئر تیار کیا ہے، اس نے سال 2017سے ہندوستانی صحافیوں، سفارتکاروں،حکومتی اہلکار، سیاستدانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، این جی اوز وغیرہ کے سینکڑوں فونوں کو ہیک کیا اور ٹارگٹڈ نگرانی کیا گیا ہے۔ اس نے ٹارگیٹڈ افراد کا نجی ڈیٹا اکھٹا کیا ہے جن میں پاس ورڈ، رابطے کی تفصیلات، کیلنڈر ایونٹس، ٹیکسٹ پیغامات اور لائیووائس کالیں شامل ہیں۔ پیگاسس اسپائی ویئر نے فون کے کیمرے اور مائکرو فون کو بھی کنٹرول کیا ہے اور ٹارگٹڈ افراد کو ٹریک کرنے کیلئے جی پی ایس فنکشن کا استعمال کیا ہے۔ اس پیگاسس اسپائی ویئر کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ جاسوسی سافٹ ویئر کسی کے فون میں صرف ای میلز، مس کالز یا پیغامات بھیج کر داخل ہوسکتا ہے اور اس کیلئے ٹارگٹڈ شخص کو اس پر کلک کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔یہ جاسوسی وزیر اعظم نریندر مودی کے 2017میں اسرائیل کے دورہ کے فورا بعد ہی شروع ہوئی ہے۔ این ایس او گروپ نے واضح کیا ہے کہ جاسوسی سافٹ ویئر کو “صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومتوں کی خفیہ ایجنسیوں کو فروخت کیا گیا ہے”۔اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی بی جے پی حکومت نے ٹارگٹڈ افرادکی ذاتی معلومات اور ان کی سرگرمیوں کی تفصیلات اکھٹا کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کے مقصد سے اس جاسوسی کا منصوبہ بنایا ہے۔ کسی بھی شخص یا قانونی ادارہ کو اس ملک کے کسی بھی شہری کی رازداری کو ہیک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے جب تک کہ نشانہ بنانے والا شخص ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ نہ ہو۔ تاہم، مرکزی حکومت اس مذموم حرکت میں ملوث رہی ہے اور ‘قومی سلامتی ‘کے نام پر گھناؤنا جرم انجام دیا ہے جو ناقابل معافی ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ اس جاسوسی کے پیچھے وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کا دماغ ہے۔ جس کیلئے انہیں عہدے پر برقراررہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ ایم کے فیضی نے مطالبہ کہا ہے کہ اس معاملے کو چیف جسٹس آف انڈیا یا جوائنٹ پرلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے تحقیقات کیا جائے اور معاملہ کی شفاف تحقیقات کیلئے دونوں کو فوری استعفی دینا چاہئے۔