
دہلی (سیف الرحمن/انصاف ٹائمز ) اترپردیش الیکشن میں بھی بہار جیسی صورتحال پیدا ہوتی دکھ رہی ہے مختلف طرح کی خبروں کو دیکھا جائے تو اترپردیش میں مضبوط تھرڈ فرنٹ کا قیام ہوتا نظر آرہا ہے اویسی و اوم پرکاش راج بھر کی پارٹی کے بیچ اتحاد ہوچکا ہے اور اکھلیش کے چچا شیو پال یادو کی ملاقاتیں بھی ان دونوں سے ہوتی رہی ہے اور اب خبر آرہی ہیکہ چند دنوں پہلے اترپردیش کی سیاست میں اہم نام رکھنے والی پارٹی پیس پارٹی کے صدر ڈاکٹر ایوب کے ساتھ الیاس اعظمی کی پیپلز جسٹس پارٹی و سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا اور دیگر چھوٹی پارٹیوں کی میٹنگ ہوئی ہے جس میں کئی سابق ممبران پارلیمنٹ،کئی سابق بیوروکریٹ و سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سینئر وکلاء نے شرکت کیا تو وہیں اس گروپ کے لیڈر الیاس اعظمی اور اویسی گروپ کے لیڈر اوم پرکاش راج بھر کی ملاقات مولانا سلمان حسینی ندوی سے بھی ہوئی ہے جوکہ صوبہ میں مضبوط تھرڈ فرنٹ بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اگر ایسا ہوا تو مانا جا رہا ہیکہ اترپردیش میں اکھلیش یادو کا کھیل یہ تھرڈ فرنٹ ویسے ہی خراب کرسکتا ہے جیساکہ بہار الیکشن میں پپو یادو، ایس.ڈی.پی.آئی و آزاد سماج پارٹی کے اتحاد اور اویسی و کشواہا کے اتحاد نے تیجسوی یادو کا کھیل بگاڑ دیا تھا دوسری طرف اکھلیش یادو کے ذریعہ بی.بی.سی ہندی کو دیے گئے بیان میں یہ کہنا کہ ہم چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ لیکر الیکشن میں اتر ینگے یہ اشارہ کرتا ہیکہ اکھلیش یادو شاید اس نقصان سے نپٹنے کیلیے بہار جیسی غلطی سے بچنے کا ارادہ بناچکے ہیں