صفایا یوسف
پڑھ اپنی کتاب زندگی،آج اپنے نامۂ اعمال کا جائزہ لینے کے لئے تو کافی ہے۔ (سورہ اسراء زندگی کتاب کی طرح ہے ایک کھلی کتاب جو بالکل واضح ہے۔ کتاب زندگی کے اوراق برابر الٹ رہے ہیں، ہر آنے والی صبح ایک نیا ورق الٹ رہے ہیں۔ یہ الٹے اوراق برابر بڑھ رہے ہیں۔ اور باقی ماندہ ورق برابر کم ہو رہے ہیں۔ ہماری زندگی کا ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جب ہم اپنی زندگی کا آخری ورق الٹ رہے ہونگے اور ہم اس بات سے نا آشنا ہونگے وہ ایسا دن ہوگا جس دن حساب کتاب ہوگا۔ جس دن حساب کی کتاب سب کے ہاتھوں میں ہوگی۔۔۔۔۔ جو نہی ہماری آنکھیں بند ہونگی اور ہم زندگی کے اختتام پر ہونگے، ہماری زندگی کی کتاب کو بھی بند کر دیا جائے گا اور ہماری تصنیف کو بھی بند کر کے محفوظ کردیا جائے گا۔ نہ ہی ہم اس کتاب زندگی میں کسی چیز کا اضافہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی چیز کو کم کر سکتے ہیں۔ دنیاوی کتابوں میں ہم جب چاہیں زیادتی اور کمی کرسکتے ہیں لیکن یہ جو زندگی کی کتاب ہے اسمیں ہم بند ہونے کے بعد کمی اور زیادتی نہیں کرسکتے ہیں۔ چاہیں ہم کتننی بھی کوشش کریں ہماری سب کوششیں بے کار ہے۔ اور ہر کتاب کا آخری سبق اور آخری ورق ہوتا ہے اور ہر پڑھنے والے کو ایک نہ ایک دن وہ آخری ورق تک پہچنا ہوتا ہے اور اس کتاب کو مکمل کرتا ہے وہ کتاب کتنی ہی دلچسپ کیوں نہ ہو لیکن پڑھنے والا آخری ورق تک پہنچ ہی جاتا ہے اور مکمل کر لیتا ہے۔اسی طرح یہ زندگی کی کتاب بھی ایک دن مکمل ہوتی ہے اور بند ہوجاتی ہے۔ کسی کو زندگی کتنی بھی پیاری کیوں نہ ہو آخر پر اسکو موت کو گلے لگانا ہی پڑتا ہے۔ Life is a book and every book has a last chapter and last page no matter how much you love that book you will surely get to the last page and it will end. کیا ہم میں سے کسی انسان نے اس بات پر کبھی غور کیا ہیں کہ ہم اس کتاب زندگی میں کیا درج کر رہے ہیں؟ روزانہ ہم اس اس کتاب میں کیا شامل کر کے اس کا ورق الٹ رہے ہیں۔ ہمیں اس بات کا شعور ہو یا نہ ہو ہماری زندگی کی یہ تصنیف تیار ہو رہی ہیں اور ہماری ترتیب و تکمیل میں اپنی ساری قوتوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ ہماری زندگی کی کتاب کے مصنف ہم خود ہیں۔ جسطرح ایک مصنف اپنی لکھی ہوئی کتاب کا ذنہ دار ہوتا ہیں۔ اسی طرح ہم بھی اس کتاب زندگی کے خود ذمہ دار ہے۔ ہر اس ورق کے لئے ذمّہ دار ہیں،، جو ہم نے اس کتاب میں تحریر کروایا۔ ایک مصنف اپنی کتاب کے ذریعے اپنے خیالات، جذبات، احساسات کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور جو پڑھنے والے ہوتے ہیں ان کے سامنے اس مصنف کی ایک پہچان بن جاتی ہیں۔ غرض ایک مصنف اسکی لکھی ہوئی کتاب سے پہچانا جاتا ہے۔ اسی طرح ہم بھی اپنی کتاب زندگی میں وہ سب لکھ رہے ہیں، جو بھی ہم سوچتے ہیں، دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، چاہتے ہیں، بھولتے ہیں، کرتے ہیں اور کرواتے ہیں۔ غرض ہر ایک چیز اس کتاب میں شامل ہورہی ہے چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز بھی ۔ اس کتاب میں وہی کچھ تحریر کیا جا رہا ہے جو ہم تحریر کروا رہے ہیں کسی دوسرے کو اس بات کا اختیار نہیں جو اس میں ایک لفظ بھی گٹھا یا بڑھا سکے، اس کتاب کے تنہا مصنف ہم ہے اور صرف ہم ہی اس میں لکھ سکتے ہیں کویٔ دوسرا نہیں۔ اب اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کل اسی کتاب کو ہمارے سامنے کھولا جائے گا اور اس میں وہ سب درج ہوگا جو ہم نے اس دنیا کی زندگی میں کیا ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہمارے سامنے روبرو ہونگے اور ہم سے کہیں گے کہ: پڑھ اپنی کتاب زندگی، آج اپنے نامۂ اعمال کا جائزہ لینے کے لئے تو کافی ہے۔( سورہ اسراء) اسلے ہمیں چاہیے کہ ہم خود اپنے اعمال کا جائزہ لیں اس سے پہلے ہمارا جائزہ لیا جائے اور ہمیں اس بات کا افسوس ہو کہ کاش میں نے اپنا وقت اچھے کاموں میں گزارا ہوتا تو آج میری زندگی کی کتاب میں بھی اچھایٔاں تحریر ہوتی اور جب ہم سے اس نامہ اعمال کو پڑھنے کے لیے کہا جائے گا تو کیا ہم سچ میں اس نامہ اعمال کو پڑھ پائیں گے کیا ہم نے وہ کام کرکے بھیجے ہیں تاکہ ہم ٹھیک سے اس کو پڑھ سکیں۔ جس طریقے سے ہمیں اس اعمال کو لکھنا تھا کیا ہم نے اس طریقہ سے لکھا ہے یا پھر یوں ہی زندگی کے دن گزرتے چلے گئے اور ہم اپنی زندگی کی کتاب کو بھی الٹتے چلے گئے اور سب کچھ کھالی رہ گیا جسے ہمیں اپنے اعمال سے بھر دینا چاہیے تھا۔ Sufaya yousf Currently persuing her bachelor’s at Srinager. Sofisufaya1999@gmail.com