قضیہ فلسطین پر تبصرے چھانٹنا آسان نہیں طارق ایوبی ندوی

عالمی سیاست پر تبصرہ آسان نہیں ہوتا، مگر جب لوگ مخلصين سے من چاہے اقدامات کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں اور مجاہدین پر الزامات لگانے لگتے ہیں تو حیرت بھی ہوتی ہے اور ہنسی بھی آتی ہے۔جان کی بازی لگا دینے والے، جرات کی تاریخ لکھ دینے والے، اور حق و باطل میں امتیاز کا معیار بن جانے والے حماس کے لوگوں سے بدگمان و مایوس کرنا شاید تاریخ کا سب سے بدترین جرم ہے ، لیکن افسوس کہ یہ جرم بعض مذہبی جماعتوں اور دین کا لبادہ اوڑھنے والوں کی طرف سے مسلسل کیا جا رہا ہے ، حق و باطل کو گڈمڈ کرنے والے افسوس ہیکہ خوف خدا سے یکسر عاری ہیں، حرمین کے ٹھیکیداروں نے پہلے ہی حماس کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے، اس اعتبار سے اب اس پر بمباری ان کے نزدیک درست ہی ہے ، مذمتی ٹوئیٹس تو ہاتھی کے دکھانے کے دانت ہیں، فی الحقیقت یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ صدی ڈیل کا حصہ ہے ، غزہ کو ختم کرنے اور القدس کو خالی کرانے پر ہی تو ڈیل ہوئی ہے جس پر سعودیہ امارات اور مصر نے دستخط کیے ہیں، مقصد صرف یہ ہیکہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ یہی کارروائی مغربی کنارے اور القدس میں کی جائے، پھرجو باقی رہ جائیں وہ محمود عباس کی قیادت میں صلح پسندی کے ساتھ اسرائیل کے تابع فرمان رہیں، اور یہی ممالک وہ مجرم ہیں جنھوں نے اسرائیل کے قیام میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے از ابتدا تا انتہا حماس کی مدد کی ہے ، لیکن مدد ایک حد تک ہی محدود رہی ہے، مقصد ہمیشہ یہ رہا کہ ایسی جو بھی طاقتیں ہوں وہ ہمیشہ ایران کی ہمنوا رہیں کسی اور کی معاون نہ بنیں، اس نے توسع پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مدد ضرور کی لیکن مدد میں وہ مخلص رہا یہ کہنا مشکل ہے، البتہ حماس کی پوزیشن یہ ہیکہ اسکے لیے ہر حال میں ہر کسی کی مدد لینا مجبوری ہے۔ترکی جو بارود کے ڈھیر پر ہے، ۳۲ دانت کے منہ میں تنہا زبان ہے، اپنے بھی اس سے خفا اور بیگانے بھی ناخوش ہیں، ناکام فوجی انقلاب اور معاشی طور پر اسے توڑنے کی کوشش میں اپنے اور بیگانے دونوں ہی شریک رہے ہیں، موجودہ ترک قیادت کو وراثت میں یہود نوازی اور لادینیت و اسرائیل نوازی ملی تھی ، مگر موجودہ قیادت اسے برابری کی سطح پر لائی، اور بہت سے شعبوں میں معاہدات ختم کیے ، اگر اسرائیل کے ساتھ اسکی تجارتی شراکت ہے تو فلسطین کے ساتھ اس کا تعاون بالکل واضح اور حماس کے تئیں اسکا موقف بالکل دو ٹوک ہے، ترکی کے موجودہ بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر منافق عرب و مصر ساتھ دے دیں تو ترکی عملی کارروائی میں کسی سے پیچھے نہیں رہ سکتا بلکہ جرات مندانہ فوجی قیادت کرے گا ، نادانوں کو یاد نہیں کہ موجودہ ترک قیادت نے مصر و شام میں انقلاب کو مکمل سپورٹ کیا تھا، جبکہ عربی ممالک اور امریکہ نے مکمل مخالفت کی تھی، وجہ صاف تھی کہ اگر مصروشام اسلام پسندوں کے ہاتھ آ جاتے تو آج یہ صورت حال نہ ہوتی ، نادانوں کو مرسی شہید کا یک سالہ دور حکومت یاد کر لینا چاہیئے، سعودیہ و مصر کی نکمی اور اسلام دشمن نارملائیزیشن کی حامی قیادتوں سے بھی ترکی یکطرفہ طور تعلقات بہتر بنا کر کسی عملی کارروائی تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہے، جبکہ صورت حال ایسی بنائی جا رہی ہے کہ ترکی کسی بھی طرح کچھ ایسا کر گزرے جس سے وہ پھر ۵۰ سال پیچھے چلا جائے ، جس طرح بہی خواہان معاہدہ لوزان کے اختتام کو دیکھنا چاہتے ہیں اسی طرح امریکہ اور اسکے حواری موجودہ ترک قیادت کو اس نقطہ اختتام تک پہنچنے ہی نہیں دینا چاہتے ہیں، خود ترکی کی اندرونی صورت حال طویل عرصہ کی محنت کے بعد بھی یہ ہے کہ نصف آبادی آج بھی سیکولرزم کے نام پر کسی مذہبی جنگ میں کودنے کی اجازت نہیں دے گی، یہ تو معلوم ہی ہو گا اور انتخابات کے نتائج بھی یہی بتاتے ہیں کہ نصف آبادی اسلام پسندوں کو نہیں پسند کرتی، اردوغان کا ایک جذباتی فیصلہ اور ایک سیاسی غلطی ترکی کو اربکان رح سے پہلے کے دور میں پہنچا دے گی، عالمی طاقتیں تو یہ چاہتی ہی ہیں کہ میاں صاحب ایک غلطی کریں اور ابلیس کی مجلس شوری ان پر مزید نئی پابندیاں عائد کر دے ۔ اردوغان اب تک جن حکمت عملیوں سے یہاں تک پہنچے ہیں ہمیں امید ہیکہ معاہدہ لوزان کے ختم ہونے کے بعد بھی قیادت وہی کریں گے، اور وہی فیصلہ کن مرحلہ ہو گا جبکہ ترکی جنگ کے میدان میں ہوگا اور دنیا کا نقشہ کچھ اور ہو گا۔بہر حال درد دل اپنی جگہ مگر قضیہ فلسطین کی ابتدا و انتہا کو سمجھنا بہت ضروری ہے، عالمی سیاست پر تبصرہ کرنا اور من چاہے مطالبے کرنا تو آسان ہے مگر کام کرنے والوں کی مشکلات کو سمجھنا اور کام کا منصفانہ تجزیہ کرنا خود ایک مشکل کام ہے، اتنا طے ہے کہ فلسطین آخری میدان جنگ ہو گا، مسجد اقصی شہید ہو گی، ہیکل دجال کی تعمیر ہو گی جسکے لیے اسرائیل بےتاب ہے ، پھر اسکے بعد مسلمانوں کا عروج ہو گا، اس وقت اہم یہ ہو گا کہ کون اہل ایمان کا حامی ہے خواہ قول سے ہو یا فعل سے اور کون دجالی طاقتوں کے خیمے میں کھڑا ہے۔

وندے ماترم کے تمام اشعار کی لازمی قرأت غیر آئینی اور ناقابل قبول: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کی اس حالیہ نوٹیفکیشن پر سخت

ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں پٹنہ میں احتجاج، دیپانکر بولے: “چار لیبر کوڈ واپس لینے ہوں گے”

مرکزی ٹریڈ یونینوں کی اپیل پر منعقدہ ملک گیر عام ہڑتال کی حمایت میں جمعرات

بہار میں 9.16 لاکھ پی ایم آواس نامکمل، مرکز سے فنڈز کا انتظار

بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کے روز وزیرِ اعظم آواس یوجنا (دیہی) کے

بہار میں ایس.ڈی.پی.آئی کو نئی قیادت: این یو عبدالسلام ریاستی انچارج مقرر، تنظیمی توسیع کو ملے گی رفتار

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بہار میں تنظیمی ڈھانچے کو