مغربی ایشیا اس وقت شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں اسرائیل کی پالیسیوں، فوجی کارروائیوں اور بڑھتے ہوئے علاقائی تصادم نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، لبنان اور بین الاقوامی سطح تک پھیلے ہوئے ان واقعات نے خطے کے استحکام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں 34 نئی بستیوں کی منظوری کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد فلسطینی آبادی میں زمین اور سلامتی کے حوالے سے خوف اور بے چینی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اسی دوران اسرائیل کے دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیتزالیل اسموتریچ نے غزہ، لبنان اور شام تک سرحدوں کی توسیع کی بات کی، جس سے علاقائی سطح پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔سفارتی محاذ پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جب اسرائیل نے اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں اپنے سفارتکار کو طلب کرتے ہوئے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔ یہ تنازع ایسٹر کی تقریبات کے دوران اسپین کے شہر ایل بورگو میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے مجسمے کو جلائے جانے سے متعلق ہے۔ اسرائیل نے اسے اشتعال انگیز اقدام قرار دیا، جبکہ مقامی حکام کے مطابق یہ ایک روایتی تقریب کا حصہ تھا جس میں پہلے بھی عالمی رہنماؤں کے مجسمے شامل کیے جاتے رہے ہیں۔اسی دوران تل ابیب میں حکومت مخالف مظاہروں نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ سینکڑوں مظاہرین نے جنگ کے خاتمے اور مسلسل جاری تنازعات کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج ملک کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی اور جنگ مخالف جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔لبنان میں صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم اٹھارہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے جاری کشیدگی میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ تنازع اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے، جو اب وسیع علاقائی جنگ کی سمت بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔مغربی کنارے میں تشدد کا ایک اور واقعہ بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا گیا ہے، جہاں دیر جریر گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں تئیس سالہ فلسطینی نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ فلسطینی حکام کے مطابق نوجوان کو گولی لگنے کے بعد شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دم توڑ گیا۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی برادری میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔سیاسی بیانات بھی کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔ بینجمن نیتن یاہو نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ انہوں نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس سے علاقائی سفارتی تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ان تمام واقعات کے درمیان مغربی ایشیا ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی تصادم، عسکری جھڑپیں اور بین الاقوامی تنازعات مل کر خطے میں امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان جاں بحق، لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 18 افراد ہلاک، مغربی کنارے میں 34 نئی بستیوں کی منظوری سے کشیدگی میں اضافہ، تل ابیب میں حکومت مخالف مظاہرے
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی
عراق کی سیاست میں طویل عرصے سے جاری اقتدار کا بحران بالآخر ختم ہو گیا
مغربی ایشیا اس وقت شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے،
مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے درمیان پاکستان اور سعودی عرب کے
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ کثیرالملکی مذاکرات میں
ایک ترک نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب اور قطر پاکستان کو پانچ ارب ڈالرز
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ
اتر پردیش کے بہرائچ ضلع کاراگار سے مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی رہائی نے ایک