اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ: جے ڈی وینس خالی ہاتھ واپس، ایران نے “حتمی پیشکش” مسترد کر دی؛ آبنائے ہرمز پر بحران گہرا، دنیا کی نظریں اگلے مذاکرات پر

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کسی ٹھوس معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہو گئے۔ تقریباً اکیس گھنٹے تک جاری رہنے والی اس طویل اور پیچیدہ گفتگو کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا کہ ایران نے واشنگٹن کی “حتمی اور بہترین پیشکش” کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

مختصر پریس کانفرنس میں وینس نے کہا کہ مذاکرات کے دوران کئی اہم معاملات پر پیش رفت نہ ہو سکی اور ایرانی وفد نے امریکی شرائط کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ امریکہ کی بنیادی ترجیح یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن نکات پر اتفاق رائے ممکن نہ ہو سکا۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ اور مذاکرات سے وابستہ حلقوں نے امریکی مؤقف کو “انتہائی سخت مطالبات” قرار دیا۔ ایرانی وفد کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی ٹیم دراصل مذاکرات سے نکلنے کے لیے جواز تلاش کر رہی تھی اور وہ بات چیت کے ذریعے وہ اہداف حاصل کرنا چاہتی تھی جو جنگ کے دوران حاصل نہ ہو سکے۔

اس سفارتی تعطل کے مرکز میں آبنائے ہرمز ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔ دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ ایران نے اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر محصول عائد کرنے کی تجویز دی ہے، جسے وہ جنگی نقصانات کے ازالے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔

تاہم اس تجویز کو عالمی سطح پر شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی بحری تنظیم کے سیکریٹری جنرل ارسی نیو دومینگیز نے واضح کیا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر کسی بھی قسم کی فیس عائد کرنا عالمی قوانین کے خلاف ہے اور اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی مثال عالمی بحری تجارت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر کہا کہ “امریکہ ہر صورت کامیاب ہوتا ہے”، چاہے ایران کے ساتھ معاہدہ ہو یا نہ ہو۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود رات گئے تک مذاکرات میں مصروف تھے۔

مذاکرات کے ساتھ ساتھ خطے میں عسکری کشیدگی بھی بڑھتی دکھائی دی۔ امریکی مرکزی کمان نے دعویٰ کیا کہ اس کے دو جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں اور سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے مشن پر ہیں۔ تاہم ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس گزرگاہ پر مکمل کنٹرول اس کی مسلح افواج کے پاس ہے اور کسی بھی غیر ملکی فوجی سرگرمی کا سخت جواب دیا جائے گا۔

جنگ بندی کے اعلان کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازرانی تقریباً معطل ہے۔ اس کے نتیجے میں خلیجی خطے سے تیل، گیس اور دیگر ضروری اشیاء کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں اور عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والی یہ بات چیت کئی حوالوں سے تاریخی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ انقلاب ایران کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کی ایک اہم ملاقات تھی۔ امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کر رہے تھے جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی۔

پاکستان نے اس پورے عمل میں ثالث کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان “وسیع اور تعمیری” بات چیت ہوئی اور امید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ ایران کی وزارت خارجہ نے بھی پاکستان کی حکومت اور عوام کی میزبانی کو سراہا۔

عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے علاقائی استحکام کے لیے تمام متعلقہ ممالک کی شمولیت اور ٹھوس معاہدے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ روس نے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکراتی عمل جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے مذاکرات میں شرکت سے قبل اپنے منجمد غیر ملکی فنڈز کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا تھا، تاہم اس حوالے سے امریکہ کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ یہ مطالبہ ایران کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

ادھر نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت روزانہ کروڑوں ڈالر جنگ پر خرچ کر رہی ہے جبکہ عام شہری صحت، تعلیم اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کا وفد قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور نتیجہ کچھ بھی ہو، حکومت عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہے گی۔

ساتھ ہی ایرانی قیادت نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر مذاکرات “باوقار اور متوازن شرائط” پر آگے بڑھتے ہیں تو معاہدے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔

مجموعی طور پر اسلام آباد مذاکرات نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گہرے اختلافات بدستور موجود ہیں۔ آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی جیسے مسائل نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی پر بھی گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔

فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے، تاہم سفارتی مکالمے کے جاری رہنے کی امید ایک مثبت امکان کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔