مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے متوقع امن مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہو چکے ہیں۔ تاہم ابتدائی پیش رفت سے واضح ہے کہ یہ مذاکرات نہایت پیچیدہ اور حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان گہرا عدم اعتماد، سخت شرائط اور تیز بیانات نے اس عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات براہِ راست نہیں بلکہ بالواسطہ (انڈائریکٹ) طریقے سے جاری ہیں۔ دونوں فریق آمنے سامنے بیٹھنے کے بجائے ثالثوں کے ذریعے پیغامات اور سوال و جواب کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ یہی طریقہ کار اس سے قبل عمان اور جنیوا میں بھی اختیار کیا جا چکا ہے۔مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایران نے چار واضح اور سخت شرائط پیش کی ہیں۔ ان میں سب سے اہم آبنائے ہرمز پر مکمل اور غیر مشروط کنٹرول کا مطالبہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے اپنے اوپر ہونے والے حملوں کے بدلے امریکہ سے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تیسری شرط کے تحت پابندیوں کے نام پر روکی گئی 120 ملین ڈالر کی رقم کی فوری بحالی کی بات کی گئی ہے۔ جبکہ چوتھی اور سب سے وسیع شرط پورے مشرقِ وسطیٰ میں بیک وقت جنگ بندی کا نفاذ ہے، جس میں غزہ، لبنان، یمن اور عراق سمیت تمام تنازعاتی علاقے شامل ہیں۔امریکہ کی جانب سے بھی سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، لیکن حتمی فیصلہ ایران کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے فریق کے ساتھ معاہدہ کرنا مشکل ہے جس پر اعتماد نہ کیا جا سکے۔ ٹرمپ نے یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ فوجی آپشن استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔اس پورے بحران کا مرکزی نقطہ آبنائے ہرمز بن چکا ہے، جو دنیا کے اہم ترین تیل راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہاں سے جہازوں کی آمد و رفت تقریباً معطل ہو چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق سینکڑوں جہاز، جن میں بڑی تعداد میں تیل بردار ٹینکر شامل ہیں، اس علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایران نے ایک “سیف کوریڈور” قائم کر کے محدود جہازوں کو ہی گزرنے کی اجازت دی ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ادھر اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جیسے اعلیٰ حکام بھی موجود ہیں۔ دوسری جانب ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ دونوں فریقین نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ایران کا وفد تقریباً 70 ارکان پر مشتمل ہے، جس میں تکنیکی، معاشی، سکیورٹی اور میڈیا ماہرین شامل ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران ان مذاکرات کو نہایت سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ تاہم ایرانی قیادت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ پر اعتماد نہیں کرتی۔ قالیباف نے کہا کہ ایران “خیر سگالی” کے جذبے کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن کسی بھی معاہدے کے لیے امریکہ کو ایران کے حقوق تسلیم کرنا ہوں گے۔دونوں ممالک کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ٹرمپ نے ایران پر “فیک نیوز” پھیلانے اور سمندری راستوں کو دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ ایران نے ان مذاکرات کو “غیر قانونی جنگ کے خاتمے کی کوشش” قرار دیا ہے۔دنیا بھر کی نظریں اب اسلام آباد پر مرکوز ہیں۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں میں سے ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی سیاست کے مستقبل کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔فی الحال مذاکرات جاری ہیں، تاہم حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ کسی حتمی حل تک پہنچنے کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔
اسلام آباد میں امریکہ–ایران آمنے سامنے نہیں، بالواسطہ مذاکرات کا آغاز: ایران کی چار سخت شرائط—آبنائے ہرمز پر کنٹرول، ہرجانے اور پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ؛ تیز بیان بازی کے درمیان دنیا کی نظریں مذاکرات پر مرکوز
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی
عراق کی سیاست میں طویل عرصے سے جاری اقتدار کا بحران بالآخر ختم ہو گیا
مغربی ایشیا اس وقت شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے،
مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے درمیان پاکستان اور سعودی عرب کے
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ کثیرالملکی مذاکرات میں
ایک ترک نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب اور قطر پاکستان کو پانچ ارب ڈالرز
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ
اتر پردیش کے بہرائچ ضلع کاراگار سے مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی رہائی نے ایک