جنگ اور عام انسان کی زندگی کا المیہ

محمد رفاقت
ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو مانو، حیدر آباد

تاریخِ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تہذیبوں کے عروج و زوال میں جنگوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا حل ثابت نہیں ہوئی۔ یہ صرف نئے مسائل کو جنم دیتی ہے، پرانے زخموں کو کریدتی ہے اور انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ چھوڑ جاتی ہے۔ جنگ کا آغاز تو چند طاقتور افراد کے کمروں میں ہوتا ہے، جہاں نقشوں پر لکیریں کھینچی جاتی ہیں اور مفادات کے سودے کیے جاتے ہیں، لیکن اس کا اختتام قبرستانوں، اجڑے ہوئے شہروں اور سسکتی ہوئی انسانیت پر ہوتا ہے۔

جنگیں ہمیشہ طاقت کے حصول، معاشی مفادات اور اقتدار کی کشمکش کا نتیجہ رہی ہیں۔ چاہے وہ قدیم دور کی فتوحات ہوں یا جدید دور کی ہتھیاروں کی دوڑ، پسِ پردہ ہمیشہ بڑے طبقے کے مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس تمام تر کھیل میں جو مہرہ سب سے پہلے پٹتا ہے، وہ”عام انسان“ہے۔جس کا جنگ سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ وہ نہ تو دفاعی پالیسیاں بناتا ہے، نہ ہی بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ وہ تو صرف اپنی روزی روٹی، اپنے بچوں کی تعلیم اور ایک پرامن چھت کی فکر میں رہتا ہے۔ مگر جب جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں، تو سب سے پہلے اسی عام انسان کا سکون، اس کی خوشیاں اور اس کا روشن مستقبل تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔

جنگ کے دوران انسانی جانوں کا ضیاع سب سے بڑا المیہ ہے۔ سرحدوں پر لڑنے والے سپاہی بھی کسی نہ کسی کے بیٹے، باپ یا بھائی ہوتے ہیں۔ جب ایک گولی چلتی ہے تو وہ صرف ایک جسم کو ختم نہیں کرتی، بلکہ ایک پورے خاندان کی امیدوں کا خون کرتی ہے۔ایک جنگ میں ہزاروں لوگ لقمۂ اجل بن جاتے ہیں، اور جو زندہ بچ جاتے ہیں، وہ اکثر عمر بھر کے لیے جسمانی یا ذہنی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بمباری کے نتیجے میں گرنے والی چھتیں صرف اینٹ پتھر نہیں ہوتیں، وہ خوابوں کے مزار ہوتے ہیں۔ مائیں اپنے جوان بیٹوں کے لاشے اٹھاتی ہیں، اور بچے یتیمی کی اس دلدل میں گر جاتے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔ اس کرب کو اس شعر میں بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے:
کتنے معصوم گھروں کے چراغ بجھتے ہیں جب سیاست کے اندھیرے جنگ کو جنم دیتے ہیں۔

جنگ صرف میدانِ کارزار تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ عام انسان کی رسوئی تک پہنچ جاتی ہے۔ معاشی طور پر جنگ ایک ایسی دیمک ہے جو ملکوں کی بنیادوں کو چاٹ جاتی ہے۔ جب ریاست کا سارا سرمایہ بارود اور ہتھیاروں کی نذر ہونے لگتا ہے، تو تعلیم، صحت اور عوامی بہبود کے منصوبے بند ہو جاتے ہیں۔

· مہنگائی کا طوفان: جنگی حالات میں سپلائی چین متاثر ہوتی ہے، جس سے بنیادی ضرورت کی اشیاء (آٹا، دالیں، ایندھن،گیس ،تیل ) نایاب ہو جاتی ہیں۔ ایک غریب مزدور جو پہلے ہی بمشکل گزارا کر رہا ہوتا ہے، اس کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔

· بے روزگاری: فیکٹریاں بند ہو جاتی ہیں، کاروبار تباہ ہو جاتے ہیں اور سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہو کر سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔

جنگ کے جسمانی زخم تو شاید وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں ، لیکن روح پر لگنے والے گھاؤ کبھی نہیں بھرتے۔ مسلسل خوف، بم دھماکوں کی گونج اور بے یقینی کی کیفیت انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں۔ وہ عمر جس میں انہیں کھلونوں سے کھیلنا چاہیے تھا، اس میں وہ بارود کی بو سونگھتے ہیں۔ ان کی معصومیت چھن جاتی ہے اور وہ ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں محبت اور ہمدردی کی جگہ نفرت اور انتقام لے لیتی ہے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق جنگ زدہ علاقوں کے بچے عمر بھر ”پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر“ (PTSD) کا شکار رہتے ہیں۔ ان کے لیے دنیا ایک محفوظ جگہ نہیں رہتی۔

جنگ صرف عمارتیں نہیں گراتی، بلکہ سماجی رشتوں کو بھی توڑ دیتی ہے۔ لاکھوں لوگ اپنا گھر بار، اپنی زمین اور اپنی پہچان چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ”پناہ گزین“کا لفظ سننے میں جتنا سادہ ہے، اس کے پیچھے چھپی ذلت اور بے بسی اتنی ہی ہولناک ہے۔ اپنے ہی وطن میں اجنبی بن جانا یا دوسرے ممالک میں امداد کی لائنوں میں لگنا ایک عام انسان کی انا کو کچل دیتا ہے۔وہ لوگ جو کل تک اپنے گھروں کے مالک تھے، وہ ایک خیمے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس نہ اپنی پہچان رہتی ہے اور نہ ہی مستقبل کا کوئی سراغ۔

وہ کون لوگ تھے جن کے لہو کے بدلے میں یہ فیصلے ہوئے، ہم کو کچھ خبر نہ ہوئی۔

یہ شعر ان لاکھوں بے گناہ انسانوں کی ترجمانی کرتا ہے جو سیاستدانوں کی بچھائی ہوئی بساط پر محض پیادوں کی طرح استعمال ہوتے ہیں۔

تاریخ کا ہر صفحہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں رہی۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد دوسری جنگِ عظیم کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کے ذریعے دبائے گئے مسائل مزید شدت کے ساتھ ابھرتے ہیں۔ جنگ کے بعد بھی آخر کار میز پر بیٹھنا پڑتا ہے، مذاکرات کرنے پڑتے ہیں اور معاہدے ہوتے ہیں۔اگر انجام کار بات چیت ہی ہے، تو پھر ہزاروں انسانوں کا خون کیوں بہایا جائے؟ کیوں نہ عقل و دانش اور سفارت کاری کو پہلے ہی موقع دیا جائے؟ جنگ صرف نفرتیں پیدا کرتی ہے جو نسل در نسل چلتی ہیں۔

جنگ کے اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہتے۔ بارود سے آلودہ زمین اور معاشی بدحالی آنے والی نسلوں کا مقدر بن جاتی ہے۔جس کی عمدہ مثال اس وقت ہماری آنکھوں کے سامنے اسرائیلاور ایران ہیں ۔انسانیت کی بقا صرف اور صرف امن میں ہے۔ امن کا مطلب صرف جنگ کا نہ ہونا نہیں ہے، بلکہ امن کا مطلب ایک ایسا ماحول ہے جہاں ہر انسان کو ترقی کے یکساں مواقع ملیں، جہاں تعلیم اور صحت پہلی ترجیح ہوں، اور جہاں اختلافات کو گولی کی بجائے بولی سے حل کیا جائے۔ہمیں ایک ایسے عالمی شعور کی ضرورت ہے جہاں انسانی جان کی قیمت کو جغرافیائی سرحدوں اور سیاسی مفادات سے بالا تر سمجھا جائے۔ عام انسان، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو، وہ صرف سکون اور عزت کی زندگی چاہتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جنگ ایک ایسا جوا ہے جس میں جیت کسی کی بھی ہو، ہار انسانیت کی ہی ہوتی ہے۔ فاتح ملک بھی اپنے جوانوں کے لاشوں اور معاشی بوجھ تلے دبا ہوتا ہے۔ جنگ کا سب سے بڑا نقصان اس عام انسان کو اٹھانا پڑتا ہے جو سیاست کے کھیل سے بے خبر اپنے بچوں کے لیے روٹی تلاش کر رہا ہوتا ہے۔جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ خود ایک لاعلاج بیماری ہے جو انسانیت کے وجود کو چاٹ رہی ہے۔ اس بیماری کا علاج صرف اور صرف برداشت، عدل اور باہمی احترام میں چھپا ہے۔ دنیا کو ہتھیاروں کی نہیں، ہمدردی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب امن ہوگا، تب ہی زندگی مسکرائے گی اور تب ہی عام انسان اپنے خوابوں کی تعبیر پا سکے گا۔

جنگ کا نہ ہونا نہیں ہے، بلکہ امن کا مطلب ایک ایسا ماحول ہے جہاں ہر انسان کو ترقی کے یکساں مواقع ملیں، جہاں تعلیم اور صحت پہلی ترجیح ہوں، اور جہاں اختلافات کو گولی کی بجائے بولی سے حل کیا جائے۔ہمیں ایک ایسے عالمی شعور کی ضرورت ہے جہاں انسانی جان کی قیمت کو جغرافیائی سرحدوں اور سیاسی مفادات سے بالا تر سمجھا جائے۔ عام انسان، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو، وہ صرف سکون اور عزت کی زندگی چاہتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جنگ ایک ایسا جوا ہے جس میں جیت کسی کی بھی ہو، ہار انسانیت کی ہی ہوتی ہے۔ فاتح ملک بھی اپنے جوانوں کے لاشوں اور معاشی بوجھ تلے دبا ہوتا ہے۔ جنگ کا سب سے بڑا نقصان اس عام انسان کو اٹھانا پڑتا ہے جو سیاست کے کھیل سے بے خبر اپنے بچوں کے لیے روٹی تلاش کر رہا ہوتا ہے۔جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ خود ایک لاعلاج بیماری ہے جو انسانیت کے وجود کو چاٹ رہی ہے۔ اس بیماری کا علاج صرف اور صرف برداشت، عدل اور باہمی احترام میں چھپا ہے۔ دنیا کو ہتھیاروں کی نہیں، ہمدردی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب امن ہوگا، تب ہی زندگی مسکرائے گی اور تب ہی عام انسان اپنے خوابوں کی تعبیر پا سکے گا۔