شام میں نئی حکومت کا بڑا فیصلہ: شراب کی فروخت پر پابندی، دمشق کی نائٹ لائف بدل جائے گی؛ عیسائی اور اقلیتی علاقوں کو چھوٹ

طویل عرصے تک جاری رہنے والی خانہ جنگی اور اقتدار کی تبدیلی کے بعد شام اب ایک نئے سماجی اور سیاسی دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دارالحکومت دمشق میں حال ہی میں شراب کی فروخت اور پیش کرنے پر عائد کی گئی پابندی نے اس تبدیلی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ یہ قدم احمد الشرع کی قیادت میں قائم حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا ہے، جس نے سابق صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی حکم نہیں بلکہ شام کے بدلتے ہوئے سماجی ڈھانچے اور حکمرانی کی سمت کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومتی ہدایات کے مطابق بارز اور نائٹ کلبز کو تین ماہ کے اندر اپنے لائسنس “کیفے لائسنس” میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی شراب کی فروخت صرف سیل بند بوتلوں میں “ٹیک اوے” کی صورت میں ممکن ہوگی، وہ بھی زیادہ تر عیسائی اکثریتی علاقوں تک محدود رہے گی۔

اس فیصلے کا براہ راست اثر دارالحکومت کی نائٹ لائف اور مقامی کاروبار پر پڑا ہے۔ کئی بارز اور ریسٹورنٹس پہلے ہی شراب پیش کرنا بند کر چکے تھے، جبکہ باقی ماندہ اداروں کے سامنے یا تو اپنی نوعیت تبدیل کرنے یا مکمل طور پر بند ہونے کا چیلنج درپیش ہے۔ ایک بار کے مالک کے مطابق: “یہ کاروبار صرف کھانے پینے تک محدود نہیں تھا بلکہ ایک خاص ماحول کا حصہ تھا، جو اب ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔”

ماہرین کے مطابق یہ اقدام صرف معاشی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ سماجی زندگی کو بھی متاثر کرے گا۔ سیاحت، ہوٹل انڈسٹری اور شہری ثقافت پر اس کے طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دمشق، جو کبھی مغربی طرز کی نائٹ لائف کے لیے جانا جاتا تھا، اب ایک زیادہ اسلامی سماجی نظام کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

تاہم اس فیصلے پر قانونی اور انسانی حقوق سے متعلق سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ محمد العبداللہ، جو مرکز برائے انصاف و احتسابِ شام کے ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ شام کے موجودہ قوانین میں شراب کی فروخت یا استعمال پر مکمل پابندی موجود نہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ان آئینی دفعات سے بھی متصادم ہو سکتا ہے جن میں شہری آزادیوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد “سماجی نظم و ضبط” اور “اخلاقی اقدار” کو مضبوط بنانا ہے۔ حامی طبقہ اسے ملک میں استحکام اور ثقافتی تعمیرِ نو کے لیے ضروری قرار دے رہا ہے، جبکہ ناقدین اسے شخصی آزادی اور کثیرالثقافتی معاشرے کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

مجموعی طور پر، دمشق میں شراب پر عائد یہ پابندی شام کے مستقبل کی سمت کے حوالے سے ایک بڑی بحث کو جنم دے رہی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا ملک ایک زیادہ مذہبی اور کنٹرول شدہ سماجی ڈھانچے کی طرف بڑھے گا یا نہیں، آنے والے وقت میں حکومتی فیصلے اس سمت کو مزید واضح کریں گے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور