100 ملین ڈالر (800+ کروڑ روپے) کا امریکی ایف-35 ایرانی حملے میں نقصان زدہ، ہنگامی لینڈنگ سے ہلچل، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں بڑا ٹرننگ پوائنٹ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران ایک اہم واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے اس جنگ کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی فوج کا جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر جیٹ ایف-35 لائٹننگ II مشتبہ طور پر ایرانی فائر کی زد میں آنے کے بعد ہنگامی لینڈنگ کرنے پر مجبور ہو گیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان عسکری تصادم اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔

امریکی فوجی حکام کے مطابق یہ فائٹر جیٹ ایران کے اوپر ایک جنگی مشن پر تھا، اسی دوران اسے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ کس نوعیت کے ہتھیار سے کیا گیا، لیکن ابتدائی اطلاعات اسے ایرانی ایئر ڈیفنس سسٹم کی کارروائی سے جوڑتی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بتایا کہ طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا ہے اور پائلٹ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں اور فی الحال کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

ایف-35 جیسے جدید فائٹر جیٹ پر حملہ اپنے آپ میں ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ طیارہ اپنی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید سینسرز اور جدید ترین اسلحہ نظام کے لیے جانا جاتا ہے، جو اسے دشمن کے ریڈار سے بچ کر کارروائی کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس کی قیمت تقریباً 100 ملین ڈالر (تقریباً 800 سے 850 کروڑ بھارتی روپے) سے زائد بتائی جاتی ہے، جس کے باعث یہ دنیا کے مہنگے ترین جنگی طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے میں اس پر حملہ نہ صرف عسکری بلکہ معاشی لحاظ سے بھی ایک بڑا دھچکہ تصور کیا جا رہا ہے۔

اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ حملہ ایران کی جانب سے کیا گیا تھا، تو یہ اس جنگ میں پہلی بار ہوگا جب امریکہ باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا کہ ایران نے براہِ راست کسی امریکی طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کو ہونے والے نقصانات کو حادثات یا “فرینڈلی فائر” کا نتیجہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ حال ہی میں تین ایف-15 ایگل طیارے کویت میں تباہ ہوئے تھے، جبکہ ایک کے سی-135 اسٹریٹو ٹینکر عراق میں تباہ ہوا تھا، تاہم امریکہ نے اسے حادثہ قرار دیا تھا جس میں تمام چھ عملے کے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد امریکہ نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی مزید مضبوط کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ اکتیسویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کو تعینات کیا جا رہا ہے، جبکہ یو ایس ایس ٹرپولی کو بھی مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ تعیناتی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔

دوسری جانب، امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں “فیصلہ کن برتری” برقرار رکھے ہوئے ہے اور ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو کافی حد تک کمزور کر دیا گیا ہے۔ تاہم ایف-35 پر ہونے والے اس حملے نے ان دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور یہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اب بھی مؤثر جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ واقعہ نہ صرف ایک عسکری دھچکہ ہے بلکہ ایک اسٹریٹیجک اشارہ بھی ہے کہ یہ تنازع مزید پیچیدہ اور خطرناک رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کس سمت جاتی ہے، اس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

خلیجی جنگ: ایران کی تین سخت شرائط پر ٹکی سیز فائر، ٹرمپ نے مذاکرات ٹھکرائے! پاکستان‑سعودی عرب بھی امن کوششوں میں سرگرم

مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ‑اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ عالمی اور علاقائی سیاست کو