ملک کی قومی تحقیقاتی ایجنسی نے ایک مبینہ بین الاقوامی سازش کا پردہ فاش کرتے ہوئے چھ یوکرینی اور ایک امریکی شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق یہ تمام افراد بھارت کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی، ڈرون سپلائی نیٹ ورک قائم کرنے اور میانمار کے مسلح گروہوں سے رابطہ رکھنے کے الزامات کے تحت تحقیقات کے دائرے میں ہیں۔
وزارت داخلہ ہند کی ہدایت پر درج اس معاملے میں غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ کی دفعات کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ کیس قومی سلامتی سے جڑا نہایت حساس معاملہ ہے اور اس کی کثیر سطحی تحقیقات جاری ہیں۔
گرفتار ملزمان کی شناخت درج ذیل ہے
ہُربا پیٹرو
سلیویاک تاراس
ایوان سکمانوفسکی
اسٹیفانکیو ماریان
ہونچارُک ماکسِم
کامنسکی وکٹر
جبکہ ایک اور ملزم امریکی شہری ہے، جس کی سرکاری شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ان تمام افراد کو ملک کے مختلف بین الاقوامی ہوائی اڈوں سے حراست میں لیا گیا۔ اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈہ، چودھری چرن سنگھ بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور نیتاجی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر امیگریشن حکام نے انہیں روکا اور بعد میں قومی تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے کر دیا۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر میانمار کے سرحدی علاقوں میں سرگرم مسلح گروہوں سے رابطے قائم کیے تھے۔ ایجنسی کو خدشہ ہے کہ یورپ سے ڈرون اور اس سے متعلقہ آلات بھارت کے راستے ان گروہوں تک پہنچائے جا رہے تھے۔ اس کے علاوہ ڈرون آپریشن، تکنیکی تربیت اور ممکنہ ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق پہلوؤں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
تحقیقاتی ایجنسی کا ماننا ہے کہ یہ نیٹ ورک بھارت کے شمال مشرقی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک وسیع سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک اس پورے نیٹ ورک کی تمام کڑیاں سامنے نہیں آ سکی ہیں اور معاملے کی تفتیش تیزی سے جاری ہے۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی نے ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے ان کی تحویل کی درخواست کی ہے تاکہ ڈیجیٹل آلات، مواصلاتی ذرائع اور بین الاقوامی روابط کی گہرائی سے جانچ کی جا سکے۔ ایجنسی اب اس سازش کے پیچھے ممکنہ مالی وسائل، غیر ملکی روابط اور بھارت میں موجود معاونین کی شناخت میں مصروف ہے۔
ادھر حکام نے واضح کیا ہے کہ ملزمان کے مذہب کے حوالے سے کوئی سرکاری معلومات دستیاب نہیں ہیں اور تحقیقات کا مرکز صرف سلامتی اور سازش سے متعلق حقائق ہیں۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سیکیورٹی ایجنسیاں الرٹ ہیں اور آنے والے دنوں میں اس بین الاقوامی سازش سے متعلق مزید بڑے انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔