خلیجی جنگ: جاسوسی کے شبہ میں ایران کی بڑی کارروائی، “دشمنوں کو معلومات دینے” کے الزام میں 500 افراد گرفتار

مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی کے درمیان ایران نے ملک کے اندر مبینہ جاسوسی نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 500 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایرانی پولیس کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ وہ “دشمن ممالک” کو حساس معلومات فراہم کر رہے تھے اور غیر ملکی میڈیا اور ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔

ایران کے پولیس چیف احمد رضا رادان نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد کو ملک کے مختلف شہروں اور صوبوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی حالیہ دنوں میں تیز کیے گئے سیکیورٹی آپریشنز کا حصہ ہے، جس کا مقصد جاسوسی نیٹ ورکس اور غیر ملکی ایجنٹوں کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔

پولیس چیف کے مطابق گرفتار افراد میں سے کئی پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر فوجی اڈوں، سیکیورٹی تنصیبات اور ممکنہ حملوں کے اہداف سے متعلق معلومات بیرونِ ملک منتقل کیں۔ بعض افراد پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے حملوں کے بعد کے مناظر کی ویڈیوز اور تصاویر ریکارڈ کر کے غیر ملکی ذرائع تک پہنچائیں۔

مختلف صوبوں میں سیکیورٹی اداروں کی کارروائیاں

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے ملک کے کئی حصوں میں بیک وقت چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔ شمال مغربی علاقوں میں بعض افراد کو فوجی اور سیکیورٹی تنصیبات کی لوکیشن مبینہ طور پر اسرائیل تک پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح شمال مشرقی علاقوں میں متعدد افراد کو حساس اداروں اور معاشی تنصیبات سے متعلق معلومات جمع کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔

مغربی صوبہ لورستان میں بھی چند افراد کو غیر ملکی ایجنسیوں سے رابطے اور ملک کے اندر بدامنی پھیلانے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں سے ایک منظم نیٹ ورک کے آثار ملے ہیں جو مختلف علاقوں سے معلومات اکٹھی کر کے بیرونِ ملک منتقل کر رہا تھا۔

غیر ملکی میڈیا سے رابطوں کے الزامات

ایرانی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار افراد میں سے بعض کا تعلق بیرونِ ملک قائم میڈیا اداروں سے بھی تھا۔ خاص طور پر لندن سے چلنے والے ٹی وی چینل “ایران انٹرنیشنل” کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکومت اس چینل پر پہلے بھی ملک کے اندر عدم استحکام پھیلانے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔

حکام کے مطابق کچھ مشتبہ افراد اس چینل یا اس سے وابستہ نیٹ ورک کو حساس معلومات فراہم کر رہے تھے۔ تاہم ان الزامات کی آزاد ذرائع سے ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی۔

جنگی ماحول میں سخت نگرانی

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں فوجی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ایران کے سیکیورٹی نظام نے داخلی نگرانی کو مزید سخت کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق غیر ملکی طاقتیں مقامی ایجنٹوں اور جاسوسی نیٹ ورکس کے ذریعے فوجی اڈوں اور سیکیورٹی انتظامات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، جو ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی میں استعمال ہو سکتی تھیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے اور اگر ان کے خلاف الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں قومی سلامتی کے قوانین کے تحت سخت سزا دی جا سکتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردِعمل

دوسری جانب بعض بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان وسیع پیمانے پر گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ اور سیاسی کشیدگی کے ماحول میں جاسوسی کے الزامات کے تحت بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی جاتی ہیں اور کئی معاملات میں عدالتی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

فی الحال ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں اس معاملے سے متعلق مزید انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔

خلیجی جنگ: ایران کی تین سخت شرائط پر ٹکی سیز فائر، ٹرمپ نے مذاکرات ٹھکرائے! پاکستان‑سعودی عرب بھی امن کوششوں میں سرگرم

مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ‑اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ عالمی اور علاقائی سیاست کو