ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع کے درمیان سفارتکاری اور علاقائی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح انتباہ دیا ہے۔ ایردوآن کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری جنگ “پورے خطے کو آگ میں ڈال سکتی ہے”، اس لیے اسے روکا جانا چاہیے۔
انہوں نے پانچ اہم نکات پر اپنی پوزیشن واضح کی: جنگ کو روکنا، مذہب اور شناخت سے بالاتر ہو کر مسلمانوں کی یکجہتی، قومی سلامتی پر سخت موقف، بحران کے وقت تعاون اور حمایت، اور عراق کے کردوں سے امن اور سمجھداری کی توقع۔
جنگ کو روکنے کی اپیل
اردوغان نے پارلیمنٹ میں کہا کہ جنگ بڑھنے سے پہلے اسے روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترکی تمام فریقین سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ علاقائی کشیدگی کم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا “یہ جنگ بڑھنے اور پورے خطے کو آگ میں ڈالنے سے پہلے روکی جانی چاہیے۔”
ماہرین کے مطابق، اگر جنگ جاری رہی، تو اس سے زندگی اور املاک کو نقصان، تیل اور عالمی بازار میں افراتفری، اور علاقائی استحکام میں سنگین بحران پیدا ہوگا۔
مذہب اور یکجہتی کا پیغام
اردوغان نے زور دے کر کہا کہ ترکی اور ان کی قیادت “ترک، عرب، کرد نہیں ہیں؛ ہم سب صرف مسلمان ہیں۔”
انہوں نے سنی اور شیعہ جیسی شناخت کو رد کرتے ہوئے تمام کمیونٹیز سے مشترکہ مذہبی شناخت اپنانے کی اپیل کی۔ اس پیغام کا مقصد بین المسالک ہم آہنگی بڑھانا اور تقسیم کو کم کرنا ہے۔
قومی سلامتی پر سخت موقف
اردوغان نے خبردار کیا کہ “کوئی بھی بیرونی دباؤ یا چیلنج برداشت نہیں کیا جائے گا، جو بھی ترکی کی طرف ہاتھ بڑھائے گا یا زبان اٹھائے گا، اسے نتائج بھگتنے ہوں گے”!
یہ بیان ترکی کی سلامتی کی پالیسی میں سختی اور خارجہ پالیسی میں مضبوط موقف کی نمائندگی کرتا ہے۔
بحران میں تعاون اور فعال کردار
اردوغان نے کہا کہ ترکی بحران کے وقت دوست ممالک اور شراکت داروں کا ساتھ دے گا۔
ترکی علاقائی استحکام کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے گا، چاہے وہ سفارتکاری، انسانی امداد یا سیاسی حمایت کی صورت میں ہو۔
عراق کے کردوں سے امن کی اپیل
انہوں نے نے کہا کہ عراق کے کرد لوگ دانشمندی سے فیصلے کریں گے اور کسی بھی بھائی بھائی کے تنازع میں شامل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ترکی کا مقصد کرد کمیونٹی کے ساتھ پرامن اور مستحکم تعلقات قائم رکھنا ہے۔
ماہرین کے مطابق، حالیہ علاقائی کشیدگی میں کچھ کرد گروپوں نے الگ تھلگ کارروائی کی افواہیں پھیلائیں، لیکن زیادہ تر انتظامیہ صورتحال کو سنبھال کر آگے بڑھا رہی ہے۔
اردوغان کے بیانات سے صاف ہے کہ ترکی جنگ کے خلاف سفارتکاری کی حمایت کرتا ہے، مذہب اور شناخت سے بالاتر ہو کر اتحاد چاہتا ہے، قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، بحران میں دوست ممالک کا ساتھ دے گا، اور عراق کے کرد کمیونٹی کے ساتھ پرامن تعلقات قائم رکھے گا۔
ان بیانات کے ذریعے ترکی نے علاقائی قیادت، سفارتکاری پر مبنی نقطہ نظر اور سلامتی کے توازن کا مضبوط پیغام دنیا کو بھیجا ہے۔