قومی مفاد سب پر فوقیت رکھے، نظریاتی جھکاؤ نہیں: اسرائیل دورے پر ایس.ڈی.پی.آئی کا مرکزی حکومت پر تنقید

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے وزیرِاعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل کو لے کر مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی قومی مفادات پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ کسی نظریاتی وابستگی پر۔

ایک بیان میں فیضی نے کہا کہ غزہ میں جاری سنگین انسانی بحران کے دوران اسرائیل کے ساتھ گہرے دفاعی اور تزویراتی تعلقات کا عوامی اظہار بھارت کی روایتی متوازن سفارت کاری سے ہٹ کر اشارہ دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل مغربی ایشیا میں منصفانہ اور متوازن کردار ادا کرنے کی بھارت کی تاریخی وابستگی کو کمزور کر سکتا ہے۔

ایس ڈی پی آئی صدر نے یاد دلایا کہ 1947 میں بھارت نے فلسطین کی تقسیم کی تجویز کی مخالفت کی تھی۔ 1974 میں بھارت پہلا غیر عرب ملک بنا جس نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کو فلسطینی عوام کا جائز نمائندہ تسلیم کیا، جبکہ 1988 میں آزاد ریاستِ فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی نوآبادیات مخالف اور حقِ خودارادیت کے اصولوں پر مبنی تھی۔

فیضی نے الزام لگایا کہ غزہ میں بڑی تعداد میں عام شہری، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بے گھر ہونے کے ساتھ غذائی بحران کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ایسے وقت میں اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی عسکری شراکت داری کو انہوں نے “تشویش ناک پیغام” قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تجارت اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور بھارت میزائل نظام، نگرانی کی ٹیکنالوجی اور بغیر پائلٹ طیاروں سمیت بڑی مقدار میں عسکری سازوسامان خریدتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے مطابق اس شراکت داری کا سیاسی طور پر جشن منانا سابقہ متوازن پالیسیوں سے انحراف کی علامت ہے۔

پارٹی نے کہا کہ بھارت کے مفادات پورے مغربی ایشیا میں متوازن اور تعمیری تعلقات برقرار رکھنے میں مضمر ہیں۔ لاکھوں بھارتی شہری خلیجی ممالک میں برسرِروزگار ہیں اور ملک کی توانائی سلامتی بھی اسی خطے سے وابستہ ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے خبردار کیا کہ اگر بھارت کے کسی ایک فریق کی جانب جھکاؤ کا تاثر قائم ہوتا ہے تو اس کے سفارتی اور اقتصادی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران کے حوالے سے فیضی نے کہا کہ بھارت کے اسٹریٹجک منصوبے، جیسے چاہ بہار بندرگاہ، اور وسطی ایشیا تک رسائی کی کوششیں متوازن خارجہ پالیسی کی متقاضی ہیں۔

ایس ڈی پی آئی نے مرکزی حکومت سے غزہ میں فوری جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کے دو قومی حل کی حمایت میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

فیضی نے کہا، “بھارت کی خارجہ پالیسی کو ملک کے عوام کی اخلاقی قدروں، سلامتی اور طویل مدتی مفادات کی عکاسی کرنی چاہیے۔ اسے علامتی سیاسی پیغامات یا نظریاتی جھکاؤ کی بنیاد پر طے نہیں کیا جا سکتا۔”

مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال جمہوریت کے لیے خطرہ: سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی نائب صدر محمد شفیع

مُونگیر کی جامعہ رحمانی میں داخلوں کا اعلان، صحافت اور دارالحکمت سمیت تمام شعبوں میں داخلہ جاری

مُونگیر میں واقع جامعہ رحمانی، خانقاہ مُونگیر نے 1447-1448 ہجری تعلیمی سال کے لیے اپنے

بستر،چھتیس گڑھ کے قبائلی رہنما رگھو میڈیامی کی حراست کو ایک سال مکمل، انسانی حقوق کی تنظیموں نے کیا احتجاج

چھتیس گڑھ کے بستّر کے قبائلی انسانی حقوق کے کارکن اور مُلنواسی بچاؤ فورم کے

قومی مفاد سب پر فوقیت رکھے، نظریاتی جھکاؤ نہیں: اسرائیل دورے پر ایس.ڈی.پی.آئی کا مرکزی حکومت پر تنقید

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی

غزہ بحران کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل پر جماعتِ اسلامی ہند نے سوالات اٹھا دیے

غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل