بہار کے کیمور کے کدرا تھانہ حلقہ کے کجھار گھاٹ ٹولہ میں بدھ کی دیر رات مبینہ شراب پارٹی کو لے کر پولیس اور گاؤں والوں کے درمیان پُرتشدد جھڑپ ہوگئی۔ پتھراؤ اور فائرنگ کے دوران ایک شخص گولی لگنے سے زخمی ہوگیا، جب کہ متعدد پولیس اہلکاروں کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ جمعرات کی صبح مشتعل گاؤں والوں نے کدرا-بھبھوا مرکزی شاہراہ کو جام کر دیا، جس سے گھنٹوں ٹریفک معطل رہی۔
پولیس کے مطابق تقریباً 15 دن قبل گرفتار ایک نوجوان کی ضمانت پر رہائی کی خوشی میں ڈی جے، رقاصاؤں اور شراب کے ساتھ پارٹی منعقد کی گئی تھی۔ بہار میں مکمل شراب بندی نافذ ہونے کے باعث پولیس کو مبینہ غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع ملی تھی۔ اطلاع کی تصدیق کے لیے کدرا تھانہ انچارج نفری کے ساتھ موقع پر پہنچے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ٹیم کے پہنچتے ہی بھیڑ مشتعل ہوگئی اور پتھراؤ شروع کر دیا گیا۔ بعض افراد کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کی بھی بات کہی گئی ہے۔ پولیس نے اپنے دفاع میں جوابی فائرنگ کی۔ ایک شخص کو گولی لگی ہے جس کا علاج جاری ہے۔ زخمی کے بیان کے مطابق اسے پیچھے سے گولی لگی۔ معاملے کی جانچ جاری ہے۔
دوسری جانب گاؤں والوں نے پولیس پر گھروں میں گھس کر خواتین، بچوں اور بزرگوں کے ساتھ مارپیٹ کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دروازے توڑے گئے اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ ایک خاتون نے الزام لگایا کہ احتجاج کرنے پر اسے بھی لاٹھی سے مارا گیا۔
واقعہ کے خلاف جمعرات کی صبح تقریباً چھ بجے سے سیکڑوں گاؤں والوں نے بانس اور بلّی لگا کر مرکزی شاہراہ کو جام کر دیا، جس سے مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنسی رہیں۔ اطلاع ملنے پر موہنیا کی ایس ڈی ایم رتنا پریہ درشنی اور ڈی ایس پی پردیپ کمار موقع پر پہنچے اور جام ختم کرنے کی اپیل کی۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ تحریری شکایت ملنے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس نے 28 نامزد اور 50 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ اب تک 13 افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پورے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
علاقے میں احتیاطاً اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے اور انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔