سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قائم مقام قومی صدر محمد شفیع نے مغربی بنگال کے بیلڈانگا تشدد معاملے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ایجنسی کے طریقۂ کار پر کی گئی سخت ریمارکس اس بات کا اشارہ ہیں کہ سخت قوانین کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
سپریم کورٹ نے حال ہی میں بیلڈانگا تشدد کیس میں غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ کی دفعہ 15 کے اطلاق پر سخت تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ ریاستی پولیس کے ضروری ریکارڈ کا جائزہ لیے بغیر ایسے سخت دفعات کا نفاذ پہلے سے طے شدہ نتیجے کی مانند محسوس ہوتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر جذباتی ردعمل کو ملک کی معاشی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر دہشت گردی کے زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔
محمد شفیع نے اپنے بیان میں کہا کہ بیلڈانگا کا واقعہ مبینہ طور پر ایک مہاجر مزدور کی افسوسناک موت کے بعد اُٹھنے والے احتجاج سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے تناظر میں انسدادِ دہشت گردی قوانین کا استعمال جمہوری حقوق اور آزادیٔ اظہار کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ این آئی اے کی جانب سے اپوزیشن کے زیر اقتدار ریاستوں میں بار بار مداخلت وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرتی ہے اور اس سے سیاسی جانبداری کے خدشات بڑھتے ہیں۔
ایس ڈی پی آئی رہنما نے کہا کہ یہ معاملہ کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ ایجنسی کی مبینہ زیادتیوں کے ایک وسیع سلسلے کا حصہ ہے۔ انہوں نے بھیما کوریگاؤں کیس اور دہلی فسادات کے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعدد کیسوں میں دانشوروں، سماجی کارکنوں اور مظاہرین کی گرفتاری اور طویل حراست نے تفتیشی ایجنسیوں کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ انہوں نے کیرالہ اور مغربی بنگال میں ہونے والی دیگر تحقیقات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق سخت قوانین کا غلط استعمال جمہوری اختلافِ رائے کو دبانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ اس سے عوامی اظہار پر منفی اثر پڑتا ہے اور عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
ایس ڈی پی آئی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تفتیشی ایجنسیوں کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد رکھا جائے اور شواہد پر مبنی و غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ادارہ جاتی اصلاحات کی جائیں، تاکہ جمہوری حقوق کا تحفظ اور وفاقی نظام کی مضبوطی یقینی بنائی جا سکے۔