پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمان راجیش رنجن عرف پپو یادو کی گرفتاری سے بہار کی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ پٹنہ پولیس نے جمعہ کی دیر رات انہیں ان کی رہائش گاہ سے سنہ 1995 کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی عدالت کے حکم کے تحت کی گئی ہے، جبکہ اہلِ خانہ اور حامیوں نے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، پپو یادو پر متعلقہ معاملے میں عدالت میں بار بار پیش نہ ہونے کا الزام ہے، جس کے سبب ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔ اسی بنیاد پر پولیس نے یہ اقدام کیا۔
گرفتاری کے بعد رکنِ پارلیمان کی والدہ شانتی پریا کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پر بدسلوکی اور ہراسانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے گھیر کر گرفتار کیا گیا۔
شانتی پریا کے مطابق، پپو یادو دہلی سے خود سپردگی کے ارادے سے آئے تھے، مگر انہیں کھانے پینے تک کا موقع نہیں دیا گیا اور دھکا مُکّی کرتے ہوئے پولیس انہیں اپنے ساتھ لے گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک منتخب رکنِ پارلیمان کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کیوں کیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پپو یادو نے حال ہی میں نیٹ کی ایک طالبہ کے قتل کے معاملے میں آواز بلند کی تھی، اسی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، یہ عدالتی عمل کے بجائے سیاسی ظلم و ستم ہے۔
شانتی پریا نے مزید کہا کہ پپو یادو پہلے ہی بلڈ پریشر، شوگر اور پیروں کی بیماری میں مبتلا ہیں اور اس قسم کی کارروائی سے ان کی صحت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
گرفتاری کے بعد پپو یادو کی طبیعت بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں پٹنہ کے پی ایم سی ایچ میں داخل کرایا گیا۔ طبی معائنے کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ اسپتال کے احاطے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔
گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی پورنیہ اور آس پاس کے علاقوں میں حامیوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ کئی مقامات پر سڑکیں جام کی گئیں اور ٹائر نذرِ آتش کر کے مظاہرہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مظاہرین نے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور گرفتاری کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
اس معاملے پر سیاسی بیان بازی بھی تیز ہو گئی ہے۔ حامیوں اور بعض اپوزیشن رہنماؤں نے اسے سیاسی انتقام کی کارروائی بتایا ہے، جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور کارروائی مکمل طور پر ضابطوں کے مطابق کی گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پپو یادو کی گرفتاری کا اثر ریاستی سیاست پر پڑ سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید طول پکڑ سکتا ہے۔