بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔ اس موقع پر ریاستی دارالحکومت پٹنہ کے باپو سبھاگار میں ان کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں بہار کے مختلف اضلاع سے آئے پارٹی کارکنان اور سینئر قائدین نے شرکت کی۔
نتن نبین کے سبھاگار پہنچتے ہی کارکنان نے تالیوں اور نعروں کے ساتھ ان کا پُرجوش استقبال کیا۔ تقریب کے دوران وہ جذباتی نظر آئے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کارکنان سے سیاست میں صبر و تحمل اور مسلسل جدوجہد برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور یہ ایک طویل عمل ہے، جس میں مسلسل جدوجہد ناگزیر ہے۔
بہار اسمبلی کا اجلاس جاری ہونے کے باوجود پارٹی کے کئی سینئر رہنما اس پروگرام میں شریک ہوئے۔ بہار کے انچارج ونود تاوڑے، نائب وزیر اعلیٰ سمرت چودھری، وجے کمار سنہا، ریاستی صدر سنجے سراوگی سمیت بھارتیہ جنتا پارٹی کے متعدد قائدین اسٹیج پر موجود تھے۔ باپو سبھاگار میں پانچ ہزار سے زائد کارکنان کی موجودگی درج کی گئی۔
اپنے خطاب میں قومی صدر نے مغربی بنگال، آسام، تلنگانہ اور کیرالہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کارکنان سے تنظیم کو مضبوط بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ محض کسی ایک شخص کے عہدے پر پہنچنے سے اہداف حاصل نہیں ہوتے، بلکہ ہر کارکن کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔
نتن نبین نے کہا کہ جب ہر کارکن خود کو پارٹی کا نمائندہ سمجھے گا، تبھی وزیر اعظم نریندر مودی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا۔
قومی صدر نے پارٹی کے نظم و ضبط اور تنظیمی ڈھانچے پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں محنت کرنے والوں کو نظر انداز نہیں کیا جاتا اور تنظیم ہر سطح پر کارکنان کے کردار پر نظر رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی واحد ایسی پارٹی ہے جہاں بوتھ سطح سے لے کر اعلیٰ قیادت تک کارکنان آگے بڑھ سکتے ہیں۔
نتن نبین کے بہار کے پہلے دورے کو پارٹی کی تنظیمی توسیع اور آئندہ انتخابی تیاریوں کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پٹنہ میں منعقدہ یہ پروگرام بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے کارکنان کو متحد کرنے اور مستقبل کی حکمت عملی واضح کرنے کا ایک اہم موقع ثابت ہوا۔