اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو شیئر کی گئی ایک انتہائی متنازع ویڈیو اب ہٹا دی گئی ہے۔ اس ویڈیو میں اسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کو علامتی طور پر مسلمانوں پر قریبی فاصلے سے فائرنگ کرتے دکھایا گیا، اور اس میں “پوائنٹ بلینک شوٹ”، “نو مرسی” اور “بنگلہ دیشیوں کو کوئی معافی نہیں” جیسے اشتعال انگیز جملے بھی شامل تھے، جنہیں سماجی تناؤ اور تشدد کو فروغ دینے والا قرار دیا جا رہا ہے۔
اگرچہ واضح نہیں ہے کہ ویڈیو کو بھاجپا نے خود ہٹایا یا ایکس پلیٹ فارم نے فلیگ کرنے کے بعد ہٹایا، لیکن کئی سینئر صحافیوں اور صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو بھاجپا کے ہینڈل سے ہی ہٹایا گیا۔
ویڈیو میں مسلمانوں کو خطرے کے طور پر پیش کیا گیا اور اس سے یہ تاثر دیا گیا کہ اگر بھاجپا اقتدار میں نہ رہی تو ریاست پر “مسلم قبضہ” جیسا منظر بن سکتا ہے۔ اس پر اپوزیشن جماعتوں، انسانی حقوق کے گروپوں اور شہری فورمز نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور اسے نفرت پھیلانے والا اور فرقہ وارانہ تشدد کو بھڑکانے والا قرار دیا۔
مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے اسے “خوفناک اور گھِناونی” قرار دیا اور کہا کہ یہ ویڈیو آئین کے سیکولر اصولوں کے منافی ہے۔
کانگریس کے رہنماؤں نے بھاجپا کی اس کارروائی کی سخت مذمت کی اور اسے “مذہب کی بنیاد پر تقسیم” اور “دشمنی پھیلانے کی کوشش” قرار دیا۔ سپریا شرنات نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا اور کہا کہ اس قسم کا مواد جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو کو “گھناؤنا”، “دم گھٹانے والا” اور “ملک میں نفرت کو فروغ دینے والا” قرار دیا۔ کئی لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے دوران اس قسم کا مواد شیئر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
یہ تنازع نیا نہیں ہے۔ 15 ستمبر 2025 کو اسام بھاجپا کے ایکس ہینڈل پر ایک آرٹیفیشیل انٹیلیجنس سے تیار کردہ ویڈیو پہلے بھی شیئر کی گئی تھی، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر بھاجپق اقتدار میں نہ رہی تو مسلمان اسام پر قبضہ کر لیں گے۔ اس پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی اور دونوں فریقین کو نوٹس جاری کیے گئے۔
درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ اس طرح کا مواد فرقہ وارانہ تناؤ بڑھا سکتا ہے اور یہ آئین کے سیکولر اصولوں کے خلاف ہے۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کی مزید سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا۔