اردو صحافت کا ایک عہد ختم: روزنامہ سہارا کے تمام ایڈیشن بند

اردو صحافت کی دنیا سے ایک نہایت افسوسناک اور دل گرفتہ کرنے والی خبر سامنے آئی ہے۔ ملک کے معروف اور طویل عرصے تک شائع ہونے والے اردو اخبار روزنامہ سہارا کے تمام سات ایڈیشن باضابطہ طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی اردو صحافت کا ایک اہم باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔

روزنامہ سہارا محض ایک اخبار نہیں تھا بلکہ یہ اردو زبان، ادب اور صحافت سے وابستہ لاکھوں قارئین کی فکری تربیت اور ذوقِ مطالعہ کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ دہلی، لکھنؤ، ممبئی، پٹنہ، کولکاتا اور دیگر شہروں سے شائع ہونے والا یہ اخبار طویل عرصے تک اردو صحافت کی شناخت سمجھا جاتا تھا۔

روزنامہ سہارا نے اپنے دورِ عروج میں نہ صرف قومی و بین الاقوامی خبروں کو نمایاں جگہ دی بلکہ اس کے ادبی صفحات، کالم نگاری اور تجزیاتی مضامین نے اردو صحافت کو ایک نیا وقار بخشا۔ معروف کالم نگاروں، ادیبوں اور دانشوروں کی تحریریں اس اخبار کا خاصہ تھیں۔
’’اُمنگ‘‘ جیسے ادبی صفحات اور عالمی امور پر مبنی سنجیدہ تجزیے اس کی شناخت بنے

سہارا نے بے شمار نوآموز قلمکاروں کو پہچان دی۔ ایسے کئی صحافی اور ادیب ہیں جن کا نام پہلی مرتبہ اسی اخبار میں شائع ہوا اور وہ لمحہ ان کے لیے زندگی بھر کا سرمایہ بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سہارا کا بند ہونا صرف ایک ادارے کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نسل کی یادوں، خوابوں اور جدوجہد کا بھی اختتام ہے۔

گزشتہ چند برسوں سے روزنامہ سہارا مالی بحران، انتظامی مسائل اور بدلتے میڈیا رجحانات کے باعث مشکلات کا شکار تھا۔ ڈیجیٹل میڈیا کے تیزی سے فروغ، قارئین کی عادات میں تبدیلی اور اشتہاری نظام کے بکھراؤ نے اردو اخبارات کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔
ماہرین کے مطابق سہارا کا بند ہونا اسی طویل زوال کا نتیجہ ہے، جس کا سامنا اردو کے بیشتر اخبارات کر رہے ہیں۔

اس وقت ملک میں روزنامہ انقلاب واحد بڑا اردو اخبار سمجھا جا رہا ہے، جب کہ قومی تنظیم، سیاست، سالار، ممبئی اردو نیوز جیسے اخبارات محدود دائرے میں اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم مجموعی صورتِ حال اردو صحافت کے لیے تشویش ناک ہے۔

صحافتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اب اردو صحافت کی بقا اور فروغ کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔ اردو ویب سائٹس، ڈیجیٹل نیوز پورٹلز، یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا پر معیاری صحافتی مواد کے ذریعے ہی اردو زبان کو نئی نسل سے جوڑا جا سکتا ہے۔

روزنامہ سہارا کا بند ہونا اردو دنیا کے لیے ایک وارننگ بھی ہے کہ اگر سنجیدہ، اجتماعی اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو مزید ادارے بھی تاریخ کا حصہ بن سکتے ہیں۔

اردو صحافت کا یہ نقصان صرف ایک زبان یا طبقے کا نہیں بلکہ ملک کی تہذیبی اور فکری وراثت کا نقصان ہے۔

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔

گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ‘میا’ مسلمانوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، ہمنت بسوا سرما کے بیانات سے تنازع

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بدھ کے روز بنگالی نسل کے مسلمانوں

مسلمانوں پر فائرنگ کا منظر: ہنگامے کے بعد اسام بی جے پی کے پیج سے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما کا ویڈیو ہٹا دیا گیا

اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو