حیدرآباد کی انگلش اینڈ فارن لینگویجز یونیورسٹی، المعروف افلو، کے طلبہ یونین انتخابات میں جمہوری طلبہ تنظیموں کے اتحاد ’آواز‘ نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکزی پینل کی تمام نشستوں پر قبضہ جما لیا۔ فرٹرنٹی موومنٹ، نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا اور مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن پر مشتمل اس اتحاد کے مقابلے میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کو تمام عہدوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
طلبہ یونین کے صدر کے عہدے پر فرٹرنٹی موومنٹ کے ہرشد شیبن این کے منتخب ہوئے۔ جنرل سیکریٹری کے طور پر مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے عرفان شاجُدین نے کامیابی حاصل کی، جبکہ نائب صدر کے عہدے پر نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا کے سونو راج منتخب کیے گئے۔
دیگر مرکزی عہدوں پر بھی آواز اتحاد کا واضح غلبہ برقرار رہا۔ جوائنٹ سیکریٹری کے طور پر مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی حلیمتھو ایس ایس عدیہ، ثقافتی سیکریٹری کے عہدے پر فرٹرنٹی موومنٹ کی عائشہ نہا اور کھیل سیکریٹری کے طور پر نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا کی اُدیتا پورکائیت منتخب ہوئیں۔
انتخابی نتائج کے مطابق اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد تمام نشستوں پر دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا ہر عہدے پر تیسرے مقام تک محدود رہی۔ ان نتائج کو افلو کی طلبہ سیاست میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کامیابی کے بعد جاری بیان میں فرٹرنٹی موومنٹ نے کہا کہ یہ مینڈیٹ “جمہوری طلبہ اتحاد، سماجی انصاف اور کیمپس میں تنوع کے تحفظ کے حق میں طلبہ کی واضح خواہش” کی عکاسی کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ طلبہ نے نفرت اور قطبیت کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے ایک جامع، مساوات پر مبنی اور متحرک کیمپس کلچر کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
افلو کے طلبہ یونین انتخابات کے نتائج کو ملک بھر کی یونیورسٹی سیاست میں جمہوری طلبہ قوتوں کے استحکام کی ایک اہم علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔