سپریم کورٹ نے پھلواری شریف (پٹنہ) پی ایف آئی کیس کے پانچ اہم ملزمان کو ضمانت دے کر بڑی راحت فراہم کی ہے۔ جسٹس ایم۔ایم۔ سندر اور جسٹس نونگمییکاپم کوتیشور سنگھ کی بنچ نے پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی طویل حراست اور مقدمے میں تاخیر کو دیکھتے ہوئے انہیں ضمانت دی جانی چاہیے۔
یہ کیس این آئی اے کے زیر اندراج RC‑31/2022/NIA/DLI سے متعلق ہے۔ ایف آئی آر 12 جولائی 2022 کو پھلواری شریف تھانہ، پٹنہ میں درج کی گئی تھی۔ ملزمان پر بھارتی فوجداری ضابطہ (IPC) کی دفعات 120B, 121, 121A, 122, 153A, 153B اور 34 اور غیر قانونی سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ، 1967 (UAPA) کی دفعات 10, 13, 17, 18, 18A, 18B اور 20 کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔
ضمانت پانے والے پانچ اہم ملزمان
محمد ریاض معارف: پی ایف آئی بہار یونٹ کے بینک اکاؤنٹس کا انتظام اور فنڈ ٹرانسفر میں مبینہ ملوث۔
یعقوب خان المعروف سلطان عثمان: تنظیم کی سرگرمیوں میں فعال اور اسلحہ کی فراہمی میں مبینہ ملوث۔
تنویر برکاتی: پی ایف آئی پر پابندی کے بعد بھی مجرمانہ سرگرمیوں میں شامل اور گولا بارود کی فراہمی میں کردار۔
محمد عابد: اسلحہ اور تربیتی سرگرمیوں میں مبینہ ملوث۔
محمد بلال المعروف ارشاد: تنظیم کی تربیتی اور دیگر سرگرمیوں میں فعال۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ کل 170 گواہوں میں سے صرف 9 گواہوں کی گواہی ہوئی ہے اور مقدمے کا ٹرائل کئی سال لے سکتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ کئی شریک ملزمان کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے، اس لیے مساوات کے اصول کے تحت ان پانچ ملزمان کو بھی راحت دی جانی چاہیے۔
عدالت نے ضمانت کی اجازت دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو مناسب شرائط عائد کرنے کا اختیار دیا اور مرکزی حکومت کو یہ بھی اختیار دیا کہ اگر ملزمان ضمانت کا غلط استعمال کریں، کسی غیر قانونی سرگرمی میں شامل ہوں یا ٹرائل میں تعاون نہ کریں تو ضمانت منسوخ کرنے کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ یہ حکم صرف ضمانت کے لیے ہے اور کیس کی میرٹ پر کوئی رائے نہیں دی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پی ایف آئی کیس میں اب تک کی سب سے بڑی عدالتی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس کا اثر دیگر متعلقہ مقدمات پر بھی پڑ سکتا ہے۔