حیدرآباد: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے انتخابات کی بحالی کے مطالبے کے لیے طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ طلبہ نے 27 جنوری سے دھرنا شروع کیا، جو 28 جنوری کو بھی جاری رہا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے یونیورسٹی انتظامیہ نے انتخابات کرانے میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔
طلبہ نے 26 جنوری کو اس احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ اس کے فوراً بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے نوٹس جاری کر کے طلبہ کو احتجاج میں شامل نہ ہونے کی وارننگ دی گئی، مگر طلبہ نے مقررہ مقام پر پرامن دھرنا جاری رکھا۔ دن میں طلبہ یونیورسٹی کے سینٹرل پارک روڈ پر دھرنا دیتے ہیں اور رات کو انتظامی عمارت کے نزدیک رہتے ہیں۔ احتجاج کے دوران طلبہ نماز ادا کرتے ہیں، ہلکے نعرے لگاتے ہیں اور نظمیں و ترانے پڑھتے ہوئے اپنی مانگ کو پرامن طریقے سے دہراتے ہیں۔
ماسٹرس کے طالب علم راشد عباسی نے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے انتظامیہ نے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کرائے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد نمائندگی اور تحریری درخواستوں کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس جواب نہیں ملا۔
طلبہ رہنما ابو طلحہ نے بتایا کہ انتظامیہ کی وارننگ نے طلبہ کو مزید فعال کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ یونین کے انتخابات ان کے جمہوری حق ہیں اور یہ پلیٹ فارم طلبہ کے مسائل اٹھانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
احتجاج کے دوسرے روز یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ایک نمائندہ وفد نے طلبہ سے ملاقات کی۔ انتظامیہ نے کہا کہ وہ بھی طلبہ یونین چاہتے ہیں، لیکن یونیورسٹی کے “پرامن ماحول” کو برقرار رکھنے کے لیے وقت لے رہے ہیں۔ طلبہ نے سوال کیا: “پرامن کا کیا مطلب ہے؟” اور واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک انتخابات تحریری طور پر طے نہیں کیے جاتے، احتجاج ختم نہیں ہوگا۔
احتجاج کرنے والے طلبہ نے زور دیا کہ ان کی تحریک مکمل طور پر پرامن اور جمہوری ہے۔ ان کا مقصد طلبہ نمائندگی کو مضبوط کرنا اور یونیورسٹی میں بات چیت کو فروغ دینا ہے۔ طلبہ نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ طلبہ یونین کے انتخابات کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کریں اور طلبہ کے مفاد، شفافیت اور شرکت کو یقینی بنائیں۔