بھیما کورے گاؤں‑الگار پریشد معاملہ میں گرفتار کبیر کاللا منچ کے دو اہم فنکار، ساگر گورکھے اور رمیش گیچور، آج تقریباً 1,970 دن بعد جیل سے رہا ہو گئے۔ بمبئی کی اعلیٰ عدالت نے دونوں کو ضمانت دی۔ دونوں کو منگل کی دیر رات تالو جا مرکزی جیل سے رہا کیا گیا۔
ساگر گورکھے اور رمیش گیچور کو 7 ستمبر 2020 کو قومی تحقیقاتی ایجنسی نے سنگین دفعات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ الزام ہے کہ یہ دونوں دسمبر 2017 میں پونے میں منعقدہ الگر پریشد پروگرام سے جڑے تھے، جو بعد میں بھیما کورے گاؤں ہنگامے سے منسلک بتایا گیا۔
رہائی کے بعد ساگر گورکھے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا “ان پانچ سال سے زائد کی جیل کی زندگی میں آزادی کے ہر لمحے کا انتظار رہا۔ ہماری پہچان اور وقار برقرار ہیں۔”
رمیش گیچور نے کہا کہ رہائی میں خوشی کے ساتھ دل پر بوجھ بھی ہے کیونکہ ان کے ساتھی سورندر گڈلنگ ابھی بھی عدالتی تحویل میں ہیں۔
عدالت نے ضمانت کے دوران دونوں پر ایک لاکھ روپے کا بانڈ، پاسپورٹ جمع کرانے اور قومی تحقیقاتی ایجنسی کو باقاعدہ رپورٹ کرنے جیسی شرائط عائد کی ہیں۔
بھیما کورے گاؤں‑الگار پریشد معاملہ میں کل 16 افراد گرفتار ہوئے تھے، جن میں سے 14 کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ سینئر رہنما فادر اسٹان سوامی جیل میں رہتے ہوئے جولائی 2021 میں انتقال کر گئے، جبکہ گڈلنگ کا معاملہ ابھی بھی اعلیٰ عدالت میں زیر سماعت ہے۔
پولیس کا موقف ہے کہ پروگرام اور ہنگامے کے درمیان براہِ راست تعلق تھا اور مبینہ ماؤ نواز روابط سامنے آئے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ شواہد اور مقدمے کی کارروائی میں تاخیر ہوئی اور کئی ملزمان کو بغیر مقدمے کے طویل عرصے تک جیل میں رکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق، گورکھے اور گیچور کی رہائی نہ صرف ان کی ذاتی جدوجہد کا نتیجہ ہے بلکہ متنازعہ معاملے میں عدالتی عمل اور انسانی حقوق کے حوالے سے جاری بحث کو بھی نئی سمت فراہم کرتی ہے۔