اتراکھنڈ کے شہر مسوری میں 18ویں صدی کے صوفی شاعر اور مفکر بلے شاہ کی صدیوں پرانی درگاہ پر مبینہ طور پر ہندو رکھّا دَل سے وابستہ چند افراد نے توڑ پھوڑ کی، جس سے مقامی سماجی اور مذہبی ماحول میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔
یہ واقعہ ہفتہ کی شام، 24 جنوری، بَالا حصار علاقے میں پیش آیا، جہاں تقریباً 25-30 افراد نے ہتھوڑوں اور لوہے کی رڈ سے درگاہ کی ساخت کو نقصان پہنچایا۔ پولیس کے مطابق اس دوران مذہبی کتابیں بھی تباہ ہو گئیں۔
پولیس نے ہری اوم، شیوایون اور شردھا نامی تین افراد سمیت 25-30 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ الزام ہے کہ اس کارروائی سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہوئی، عوامی امن و امان خراب ہوا اور عبادت گاہ کو بے حرمتی کا سامنا کرنا پڑا۔ مقدمہ بھارتی فوجداری ضابطے کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا اور تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بلے شاہ کمیٹی کے صدر رَجت اگروال نے کہا، “یہ حملہ صرف ایک مذہبی مقام کو نقصان پہنچانے کا معاملہ نہیں، بلکہ مسوری کے پرامن سماجی ماحول کو بگاڑنے کی کوشش ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ درگاہ نجی زمین پر قائم تھی اور سالوں سے یہاں مذہبی و ثقافتی پروگرام منعقد ہوتے رہے ہیں۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے درگاہ کی دیواروں پر توہین آمیز کام بھی کیا، جس سے کمیونٹی کے جذبات مجروح ہوئے۔
اس واقعہ کے بعد کئی سماجی اور سیاسی شخصیات نے اسے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والا عمل قرار دیا۔ سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر، محبوبہ مفتی، نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بلے شاہ (1680-1757) پنجاب کے عظیم صوفی شاعر، انسان دوست اور فلسفی تھے۔ ان کی شاعری میں محبت، برداشت اور برابری کا پیغام ملتا ہے۔ انہوں نے مذہبی رسم و رواج اور سماجی تلخی کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کا مزار پاکستان کے قصور میں ہے، لیکن ان کی تعلیمات بھارت اور پاکستان دونوں میں لاکھوں افراد کے لیے قابل احترام ہیں۔