واشنگٹن میں قائم تحقیقی ادارے انڈیا ہیٹ لیب نے اپنی رپورٹ ‘رپورٹ 2025: بھارت میں نفرت انگیز تقریریں’ میں کہا ہے کہ اترکھنڈ کے وزیراعلیٰ پُشکر سنگھ دھامی ملک کے سب سے زیادہ نفرت انگیز تقریریں کرنے والے رہنما ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، دھامی نے 2025 میں 71 تقریروں میں خاص طور پر مسلمان کمیونٹی کے خلاف بیان دیا۔
رپورٹ میں ملک بھر میں 1,318 نفرت انگیز تقریریں درج کی گئی ہیں، جن میں سے 1,289 میں مسلمان کمیونٹی کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد زیادہ ہے۔
زیادہ تر واقعات بی جے پی کے زیرِ انتظام ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں ہوئے، جہاں کل کے 88 فیصد معاملات سامنے آئے۔
دھامی نے جمہوریہ دن کے موقع پر کہا “اگر اترکھنڈ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے کی گئی باتیں نفرت انگیز تقریر شمار ہوتی ہیں تو میں اسے قبول کرتا ہوں۔ غیر قانونی داخلے، زبردستی مذہب کی تبدیلی اور تشدد پھیلانے والوں کے خلاف قوانین ہونے چاہئیں۔ ہمیں ریاست کی اگلی نسل کے لیے محفوظ اترکھنڈ دینے کا فریضہ ہے۔”
انہوں نے اپنی تقریروں میں “لو جہاد”، “لینڈ جہاد” اور “تھوک جہاد” جیسے متنازعہ الفاظ بھی استعمال کیے۔
رپورٹ کی اہم جھلکیاں
2025 میں 1,318 نفرت انگیز تقریریں درج
1,289 تقریریں مسلمان کمیونٹی پر مرکوز
21 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں واقعات
بی جے پی کے زیرِ انتظام علاقوں میں 88 فیصد واقعات
2024 کے مقابلے میں اضافہ: 13 فیصد
2023 کے مقابلے میں اضافہ: 97 فیصد
انڈیا ہیٹ لیب نے کہا کہ وہ اقلیتی کمیونٹیز کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات پر مسلسل نگرانی رکھیں گے اور خبردار کیا کہ “طاقتور لوگ عارضی طور پر جوابدہی سے بچ سکتے ہیں، مگر یہ بے ضابطگی ہمیشہ نہیں چل سکتی۔”
2025 میں ملک میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں میں تیزی دیکھی گئی، اور وزیراعلیٰ دھامی سمیت کئی رہنماؤں کے نام سامنے آنے کے بعد یہ مسئلہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔