شرجیل امام، عمر خالد اور سول سوسائٹی کا دوہرا معیار: تزئین جنید

 
مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے لیے کمیونسٹ سیاست اور میڈیا کو ایسا روایتی مسلمان درکار ہے جس کا میلان بائیں بازو کی جانب ہو، جسے ملحد کی حیثیت سے متعارف کرایا گیا ہو اور جس نے اپنی گفتگو، تحریروں یا احتجاجات میں اسلامی حوالوں کا استعمال نہ کیا ہو۔ خالد اس معیار پر پورا اترا، تاہم امام نہیں اتر سکا۔
 
14 ستمبر کو 14 گھنٹوں کی تفتیش کے بعد عمر خالد کو دلی فسادات میں تشدد بھڑکانے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں دلی پولیس نے گرفتار کیا تھا ۔ خالد کی گرفتاری کے بعد، جو اب تک دلی فسادات سے متعلق ہونے والی گرفتاریوں سے بچا رہا تھا، خاصا ہنگامہ اور شور و غوغا ہوا ۔
آصف اقبال تنہا، میران حیدر، خالد سیفی اور شرجیل امام کی گرفتاریوں کے معاملے نمایاں تھے تاہم آج تک ان کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ صفورا زرگر، نتاشا نروال، دیوانگنا کلیتا اور عشرت جہاں کی گرفتاریوں کے معاملے پر فیمنسٹ گروپوں کی جانب سے احتجاج کیے جانے کے بعد یہ گرفتاریاں سرخیوں میں رہیں۔ ان چاروں میں سے بھی صرف صفورا کی اب تک ضمانت ہوئی ہے۔ محمد پرویز احمد، محمد الیاس، شاہد احمد، تسلیم احمد، سلیم ملک، محمد سلیم خان اور اطہر خان ایسے نام ہیں جن سے ہم ناواقف ہیں۔ ان سب پر بھی ایف آئی آر میں غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام قانون (یو اے پی اے) کے تحت وہ سبھی الزامات عائد کیے گئے ہیں جو خالد پر عائد کیے گئے ہیں۔
ان سب کو بھی انھی الزامات کے تحت جیل میں بند کیا گیا ہے جن کی بنا پر خالد کو گیا ہے۔ لیکن خالد وہ واحد فرد ہے جس کی ہندوستانی سول سوسائٹی نے بڑے پیمانے پر حمایت کی ہے۔ انھیں بائیں بازو کے حلقوں سے حمایت حاصل ہوئی, جنھوں نے دلی چارج شیٹ پر بھی اپنی خاموشی برقرار رکھی تھی۔ فروری میں ہونے والے تشدد میں دلی پولیس کے کردار پر خالد کی گرفتاری تک کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ جب سیفی، میران، آصف اور امام پر یو اے پی اے تھوپا گیا تھا اس وقت کوئی پریس کانفرنس نہیں کی گئی، کوئی بیان شائع نہیں ہوا۔ امام کے لیے، جو شہریت ترمیمی قانون (سی اے سے) کا پہلا گرفتار شدہ احتجاجی ہے، جس پر جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں اپنی تقریروں کے لیے ملک سے بغاوت کا الزام عائد کیا گیا، حمایت و یکجہتی کی تمام آوازیں خاموش رہیں
خالد اور امام بہت سے پہلوؤں سے مماثل ہیں۔ دونوں کو اپنی اپنی تقریروں کی وجہ سے ملک سے بغاوت کے الزام کا سامنا ہے۔ تاہم امام کی گرفتاری پر صرف مشروط یکجہتی ملی وہیں خالد کی گرفتاری اچانک بے تحاشا یکجہتی اور سی اے اے مظاہرین کی حمایت کا سبب بنی، کیوں؟
مرکزی دھارے کے کمیونسٹ میڈیا ہاؤس اور سول سوسائٹی ان مسلمانوں کی روایتی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں جو تشخص کی سیاست پر اپنی شناخت کا لبادہ اوڑھا دیتے ہیں۔ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے لیے کمیونسٹ سیاست اور میڈیا کو ایسا روایتی مسلمان درکار ہے جس کا میلان بائیں بازو کی جانب ہو، جسے ملحد کی حیثیت سے متعارف کرایا گیا ہو اور جس نے اپنی گفتگو، تحریروں یا احتجاجات میں اسلامی حوالوں کا استعمال نہ کیا ہو ۔ خالد اس معیار پر پورا اترا، تاہم امام نہیں اتر سکا ۔
یہی وجہ ہے کہ نہ تو اس وقت امام کو کوئی حمایت حاصل ہوئی اور نہ اب ہورہی ہے۔ یہاں تک کہ متبادل میڈیا نے بھی ان کی قید پر اپنی خاموشی قائم رکھی ہے۔ واحد گروہ جو غیر مشروط طور پر اس کی حمایت کرتا ہے وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، جے ایم آئی، اے ایم یو اور آئی آئی ٹی کے طلبا ہیں جنھوں نے امام کے ساتھ اس کی گرفتاری سے پہلے احتجاجات میں حصہ لیا تھا۔ اگر آپ سوچ رہے ہوں کہ انہیں کس درجہ میں رکھا جائے تو یہ سمجھ لیجیے کہ یہ وہ گروہ ہے جسے مظاہرین کے اپنی شناخت کے اظہار پر کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
جب مین اسٹریم میڈیا میں اپنی شناخت بنانے والے کارکنوں نے امام کی حمایت کی تو ایسا کرتے ہوئے انھوں نے بالکل ہی سرپرستانہ لہجے میں مذمت اور ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ پروفیسر اپوروانند جھا نے امام کی تقریر کو “بے قابو اور غیرذمہ دارانہ” قرار دیا جب کہ شدھبرتا سین گپتا نے ایک فیس بک پوسٹ میں امام پر چھ بار بیوقوفی، حماقت، اور دماغ سے عاری ہونے کا الزام عائد کیا۔
امام کے ساتھ یکجہتی میں بنیادی رکاوٹ اس کی اپنی شناخت کا وہ بے لاگ اظہار ہے جسے رام چندر گہا ‘عہد وسطی کا گھیٹو’ سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ وہی شناخت ہے جسے وہ خالد میں نہیں دیکھتے اور نہ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ امام کا اظہار رائے فرقہ وارانہ ٹھہرایا گیا جب کہ خالد اس پر ویسے زور نہیں دے سکتا تھا جیسا وہ چاہتا ہے۔
فکری بدیانتی اور یکجہتی کے اس پرفریب فہم کے نتیجے میں امام کا کوئی نہیں ہے۔ اس کی قید کو نظر انداز کرنا ہندوستانی نسیان کے ایک اور واقعہ پر منتج ہوسکتا ہے جو مسلمانوں کے حق آزادی سے انکار کرتا ہے۔
مدثر اور ثمرین نے کارواں میں لکھا ہے، “لبرل افراد اپنی یکجہتی ایک احسان کے طور پر پیش کرتے ہیں، ان کی یکجہتی گویا ان لوگوں کو احتجاج کی تمیز سکھانے کی تعلیم ہوتی ہے جنہیں وہ ‘ادر’ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لبرل بتاتے ہیں کہ مظلوموں کو تحریک کیسے چلانی ہے، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن اس عمل میں انھی کی آواز بھی دبا رہے ہیں۔”
کسی کے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہونے کا مطلب ہے کہ اسے غیرمشروط طور پر حمایت دی جائے؛ اسی طرح شناخت کا اظہار کرنا مشروط یکجہتی کو مسترد کرنا ہے۔ یہ مظلوموں کے تئیں ہمارا فرض ہے، نہ کہ اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی آسان ترکیب۔
ایک اور کارکن، شرجیل عثمانی کو جب غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا تھا تو ان کے لیے کوئی یکجہتی یا پریس کانفرنس نہیں ہوئی تھی ۔ وہ فرسٹ پوسٹ پر لکھتے ہیں، “جن لوگوں کی یکجہتی شرائط و ضوابط کے ساتھ آتی ہے ایسے لوگ جب مظلوموں کی طرف سے بولتے ہیں تو مظلوموں کے ساتھ ناانصافی کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ “
اگر وہ خالد کی حمایت میں نکلے تھے، تو انھیں امام کے لیے بھی باہر آنا چاہیے تھا۔ پُر فریب یکجہتی کی جگہ غیر مشروط یکجہتی دکھانے کی ضرورت ہے۔ اس سے کم کچھ بھی منظور نہیں۔
 
(تزئین جنید، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بیچلر کی طالبہ ہیں! اُنہوں نے یہ مضمون 19 ستمبر 2020 کو تیار کیا تھا)

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔

گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ‘میا’ مسلمانوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، ہمنت بسوا سرما کے بیانات سے تنازع

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بدھ کے روز بنگالی نسل کے مسلمانوں

مسلمانوں پر فائرنگ کا منظر: ہنگامے کے بعد اسام بی جے پی کے پیج سے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما کا ویڈیو ہٹا دیا گیا

اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو