دارالحکومت پٹنہ کے گرلز ہاسٹلز میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ جہان آباد کی نیٹ طالبہ کی موت کے انکشافات کے درمیان اب اورنگ آباد ضلع کے گوہ کی رہنے والی 15 سالہ طالبہ کی مشتبہ موت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دونوں واقعات جنوری 2026 کے پہلے ہفتے کے ہیں۔ لواحقین نے ان معاملات میں خودکشی کے نظریے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سازش اور قتل کا الزام عائد کیا ہے۔
اورنگ آباد کے گوہ کی رہنے والی طالبہ (فرضی نام نشا) پٹنہ کے ایگزیبیشن روڈ واقع ایک گرلز ہاسٹل میں رہ کر نیٹ کی تیاری کر رہی تھی۔ 6 جنوری 2026 کو ہاسٹل انتظامیہ نے اہل خانہ کو اطلاع دی کہ طالبہ نے خودکشی کر لی ہے۔ اطلاع ملتے ہی والد پٹنہ پہنچے، جہاں پی ایم سی ایچ کے ایمرجنسی وارڈ میں بیٹی کی لاش ملی۔
متوفیہ کے والد نے گاندھی میدان تھانے میں درج ایف آئی آر میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی کو دو بالغ نوجوان مسلسل ذہنی طور پر ہراساں کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ دونوں نوجوان طالبہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے تھے اور غلط کام کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ والد کا دعویٰ ہے کہ واقعے کے دن بھی دونوں نوجوان بغیر اجازت طالبہ کے کمرے میں موجود تھے۔
والد نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب انہیں بیٹی کی موت کی اطلاع دی گئی اور وہ اس وقت پٹنہ ہی میں موجود تھے تو ان کے پہنچنے سے پہلے ہی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال کیوں بھیج دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تاحال پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی فراہم نہیں کی گئی ہے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ جس پنکھے سے پھانسی لگانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس کا بلیڈ تک ٹیڑھا نہیں ہوا، جبکہ طالبہ کا وزن تقریباً 45 کلوگرام تھا۔ والد کا کہنا ہے کہ یہ خودکشی ممکن نہیں اور شواہد مٹانے کے مقصد سے عجلت میں لاش کو ہٹایا گیا۔
متوفیہ کے والد کے مطابق 23 جون 2025 کو بیٹی کا ہاسٹل میں داخلہ کرایا گیا تھا۔ 30 دسمبر کو طالبہ گھر آئی تھی اور 4 جنوری کو دوپہر ڈھائی بجے اسے واپس ہاسٹل چھوڑا گیا۔ 6 جنوری کی صبح ساڑھے نو بجے آخری بار بات ہوئی تھی، اس وقت وہ بالکل معمول کے مطابق تھی۔
اس معاملے میں دو نوجوانوں کے ساتھ ہاسٹل کے منتظم اور طالبہ کی ایک سہیلی کو بھی نامزد ملزم بنایا گیا ہے۔
متوفیہ کی والدہ نے بتایا کہ واقعے کے دن بیٹی نے فون پر کہا تھا کہ وہ ہاسٹل سے باہر جا کر انڈا کھا کر واپس آئے گی۔ کچھ ہی دیر بعد اس کی موت کی خبر آ گئی۔ والدہ کا کہنا ہے کہ اگر ہاسٹل منتظم اور روم میٹ سے سختی سے پوچھ گچھ کی جائے تو سچ سامنے آ سکتا ہے۔
پورنیہ کے رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے متعلقہ گرلز ہاسٹل پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پٹنہ کے کئی گرلز ہاسٹلز میں مشتبہ سرگرمیاں جاری ہیں اور طالبات کی سلامتی کے ساتھ کھلے عام کھلواڑ ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ پر سنگین لاپروائی کا الزام عائد کیا۔
اس معاملے میں گاندھی میدان تھانے میں مقدمہ نمبر 09/26 درج کیا گیا ہے۔ تفتیش کی ذمہ داری سب انسپکٹر ابھیشیک کمار کو سونپی گئی ہے۔ لواحقین غیر جانبدارانہ جانچ اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے دونوں نیٹ طالبات کی موت کی سی بی آئی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 5 جنوری کو جہان آباد کی ایک نیٹ طالبہ پٹنہ کے گرلز ہاسٹل لوٹی تھی۔ 6 جنوری کو وہ مشتبہ حالت میں بے ہوش ملی اور 11 جنوری 2026 کو علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ مسلسل سامنے آ رہے ان واقعات نے پٹنہ کے گرلز ہاسٹلز کی سیکورٹی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔