دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کی اس عرضی پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جس میں انہوں نے ’لینڈ فار جاب‘ معاملے میں سی بی آئی کی جانب سے درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔ جسٹس رویندر ڈوڈیجا کی بنچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حتمی حکم محفوظ رکھنے کا اعلان کیا۔
سی بی آئی کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے عدالت کو بتایا کہ لالو پرساد یادو کی عرضی غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے 27 فروری 2023 کو چارج شیٹ پر نوٹس لیا تھا، جبکہ یہ عرضی 23 مئی 2025 کو دائر کی گئی، یعنی تقریباً دو سال بعد۔ راجو کے مطابق اس تاخیر کی بنیاد پر عرضی مسترد کی جانی چاہیے۔
سی بی آئی نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ تفتیش اور استغاثہ کے لیے کسی پیشگی منظوری کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ لالو پرساد یادو پر اپنے عوامی فرائض کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔
لالو یادو کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے دلیل دی کہ ایف آئی آر ضروری پیشگی اجازت کے بغیر درج کی گئی، جس کے باعث پوری تفتیش غیر قانونی ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کا پورا عمل ہی قانون کے خلاف اور ناانصافی پر مبنی ہے۔
’لینڈ فار جاب‘ گھوٹالہ 2004 سے 2009 کے دوران ریلوے وزارت سے متعلق مبینہ بدعنوانیوں پر مبنی ہے۔ سی بی آئی کے مطابق، ریلوے کی گروپ-ڈی ملازمتوں کے بدلے امیدواروں یا ان کے اہل خانہ سے زمین کے سودے کیے گئے۔
سی بی آئی اب تک اس معاملے میں تین چارج شیٹیں داخل کر چکی ہے، جن میں مجموعی طور پر 78 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں ریلوے میں نوکری حاصل کرنے والے 38 امیدوار بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل جون 2025 میں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ اب دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلہ محفوظ کیے جانے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس عرضی پر جلد ہی حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔