ملک میں پندرہ سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں بے روزگاری دسمبر دو ہزار پچیس میں معمولی اضافہ کے ساتھ چار اعشاریہ آٹھ فیصد ہو گئی۔ یہ شرح نومبر میں چار اعشاریہ سات فیصد تھی۔ یہ معلومات مرکزی حکومت کی جانب سے جاری شدہ وقفہ وار افرادی قوت سروے میں سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں بے روزگاری مستحکم رہی اور تین اعشاریہ نو فیصد پر برقرار رہی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ بڑھ کر چھ اعشاریہ سات فیصد ہو گئی۔ اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شہروں میں روزگار پر دباؤ بڑھا ہے، جبکہ دیہی علاقے نسبتاً مستحکم ہیں۔
دیہی مردوں کی بے روزگاری چار اعشاریہ ایک فیصد پر مستحکم رہی۔ شہری خواتین کے لیے خوش آئند خبر یہ ہے کہ ان کی بے روزگاری نو اعشاریہ تین فیصد سے گھٹ کر نو اعشاریہ ایک فیصد ہو گئی۔
کل افرادی قوت میں شمولیت کی شرح پچپن اعشاریہ آٹھ فیصد سے بڑھ کر چھپن اعشاریہ ایک فیصد ہو گئی۔ دیہی علاقوں میں یہ شرح اٹھاون اعشاریہ چھ فیصد سے بڑھ کر انیس فیصد ہوئی، جبکہ شہری علاقوں میں پچاس اعشاریہ چار فیصد سے کم ہو کر پچاس اعشاریہ دو فیصد رہ گئی۔ خواتین کی شمولیت کی شرح بھی بڑھی، دیہی خواتین میں یہ تینتالیس اعشاریہ سات فیصد سے بڑھ کر چالیس اعشاریہ ایک فیصد اور شہری خواتین میں پچیس اعشاریہ پانچ فیصد سے کم ہو کر پچیس اعشاریہ تین فیصد رہی۔
کل فعال آبادی کا تناسب بھی معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا۔ دیہی مردوں کا تناسب پچھتر اعشاریہ چار فیصد سے بڑھ کر چھہتر فیصد، دیہی خواتین کا اٹھتیس اعشاریہ چار فیصد سے بڑھ کر اٹھتیس اعشاریہ چھ فیصد، جبکہ شہری مردوں میں یہ ستتر اعشاریہ چار فیصد اور شہری خواتین میں تقریباً تئیس فیصد مستحکم رہا۔
مرکزی حکومت نے جنوری دو ہزار پچیس سے افرادی قوت سروے کی نئی شمار کی پالیسی نافذ کی ہے، جس سے افرادی قوت کے اشارے اب مزید تفصیلی اور درست انداز میں سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ شہری روزگار کے بازار پر دباؤ بڑھا ہے، لیکن کل شمولیت کی شرح اور فعال آبادی میں بہتری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لوگ کام کی تلاش میں سرگرم ہیں، جو معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔