مدھیہ پردیش کے ضلع بیتول کے قبائلی اکثریتی گاؤں ڈھابا میں مقامی مسلم رہائشی عبدل نعیم کی ذاتی زمین پر بننے والا نیا اسکول منگل کو انتظامیہ نے جزوی طور پر مسمار کر دیا۔ یہ اسکول نرسری سے کلاس 8 تک کے بچوں کے لیے بنایا جا رہا تھا اور نعیم نے اس کی تعمیر میں تقریباً 20 لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔
گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ یہ اسکول قبائلی بچوں کے لیے تعلیم حاصل کرنے میں بڑا سہارا بنتا، کیونکہ انہیں موجودہ اسکول تک روزانہ کئی کلومیٹر پیدل یا وین کے ذریعے جانا پڑتا ہے۔
مقامی افواہوں کے بعد دعویٰ کیا گیا کہ اسکول کو مدرسہ کے طور پر چلایا جائے گا، جسے نعیم نے مکمل طور پر مسترد کیا۔ گاؤں میں صرف تین مسلم خاندان رہائش پذیر ہیں۔
پنچایت نے اتوار کو نعیم کو نوٹس جاری کیا اور تعمیر کو غیر قانونی قرار دیا۔ مخالفت کے بعد پیر کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا، تاہم انتظامیہ نے منگل کو اسکول کا جزوی حصہ مسمار کر دیا۔
سب ڈویژنل مجسٹریٹ اجیت ماروی کا کہنا ہے کہ صرف غیر قانونی تجاوزات والے حصے کو ہٹایا گیا۔ نعیم نے کہا کہ انہوں نے تمام ضروری اجازتیں حاصل کی تھیں اور کسی بھی جرمانے کے لیے تیار ہیں۔
قبائلی خاندانوں کا کہنا ہے کہ اسکول کی تعمیر ان کے بچوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا آسان بنانے کی کوشش تھی۔ ایک طالبہ نے میڈیا کو بتایا، “اگر وین نہیں آتی تو اسکول چھوڑنا پڑتا۔ اسکول 14 کلومیٹر دور ہے۔ نیا اسکول ہمارے لیے بہت مددگار ہوتا ہے۔”
ایک والدین نے کہا، “بچوں کو صبح جلدی نکلنا پڑتا اور شام کو دیر سے واپس آتے تھے۔ وقت، پیسہ اور حفاظت سب پر بوجھ بڑھتا تھا۔ نیا اسکول ہماری مدد کرتا۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کے ہدایات کے خلاف ہے، جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی جائیداد کو توڑنے سے پہلے 15 دن کا نوٹس اور سماعت کا موقع لازمی ہے۔
گاؤں والے کہتے ہیں کہ انتظامیہ نے پہلے کارروائی کی اور بعد میں وضاحت کی، جس سے بچوں اور خاندانوں کے حقوق پر سوالات اٹھتے ہیں۔
ڈھابا گاؤں میں بچوں کے مستقبل کے لیے تیار ہو رہا یہ اسکول جزوی طور پر مسمار ہونا صرف تعمیراتی تنازعہ نہیں، بلکہ مقامی کمیونٹی کے تعلیمی حقوق اور انتظامی حساسیت پر بڑا سوال ہے۔ گاؤں والے اب بھی اسکول کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن غیر واضح انتظامی فیصلوں نے ان کے خوابوں کو جھنجوڑ دیا ہے۔