اتر پردیش کے ضلع سہارنپور کے دیوبند تھانہ علاقے میں 14 سالہ دلت طالب علم، میاںک کمار، کا لاش ریلوے ٹریک پر ملنے سے علاقے میں ہڑبونگ مچ گئی۔ میاںک، جو نویں جماعت کا طالب علم تھا، کا لاش ایک تھیلے میں بند حالت میں پایا گیا، جس کی اطلاع ایک لوکو پائلٹ نے دی، جس کے بعد پولیس نے لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی۔
پولیس کے مطابق، میاںک 12 جنوری سے گھر سے لاپتہ تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسے کسی معروف لڑکی کے کہنے پر گھر سے بلایا گیا، جہاں اس پر شدید تشدد کیا گیا اور جسم پر چھری کے وار کیے گئے۔ بعد ازاں لاش کو ٹرین کے نیچے پھینک دیا گیا تاکہ قتل کو خودکشی یا ریلوے حادثے کا روپ دیا جا سکے۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (دیہات) ساگر جین نے بتایا کہ پولیس نے مقتول کے والد کی شکایت پر پانچ نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ملزمان میں ایک مقامی جوڑا، ان کا بیٹا، بیٹی اور ایک دیگر شخص شامل ہیں۔ اب تک دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
واقعے نے گاؤں میں شدید تناؤ اور غصہ پیدا کر دیا ہے، خاص طور پر جب معاملہ نابالغ کے قتل اور لاش کو ریلوے ٹریک پر پھینکنے کا ہے۔ مقامی لوگ اور سماجی کارکن پولیس سے غیر جانبدار اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مجرموں کو سخت سزا مل سکے۔
پولیس ابھی یہ تصدیق نہیں کر سکی ہے کہ یہ آنر کلنگ کا معاملہ ہے یا کسی اور وجہ سے قتل ہوا۔ ابتدائی تحقیقات سے اشارے مل رہے ہیں کہ میاںک کا قتل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ تحقیقات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد معاملے کی پوری حقیقت سامنے آئے گی۔