سال 2025 میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں میں 13 فیصد اضافہ، بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں سب سے زیادہ واقعات، سوشل میڈیا پر پھیلاؤ تیز

سال 2025 میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انڈیا ہیٹ لیب کی سالانہ رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں مجموعی طور پر 1,318 واقعات ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ اور 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد زائد ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کل 1,289 تقریریں مسلم کمیونٹی کو نشانہ بناتی ہیں، جبکہ عیسائیوں کے خلاف 162 واقعات درج کیے گئے۔ مسلمانوں کے خلاف تقریروں میں پچھلے سال کے مقابلے میں 12 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں میں 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سب سے زیادہ نفرت انگیز تقریریں اتر پردیش (266)، مہاراشٹر (193)، مدھیہ پردیش (172)، اترکھنڈ (155) اور دہلی (76) میں ہوئی ہیں۔ مجموعی طور پر 1,164 واقعات ایسے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ہوئے جہاں بی جے پی یا اس کی قیادت والے اتحاد کی حکومت تھی۔ یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔ مخالف پارٹی کی حکومت والی ریاستوں میں یہ تعداد 154 تک محدود رہی، جو 2024 کے مقابلے میں 34 فیصد کم ہے۔

اترکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی سب سے زیادہ نفرت انگیز تقریریں کرنے والے رہنما رہے، جن کے نام 71 تقریریں درج ہیں۔ اس کے بعد انٹرنیشنل ہندو پریشد کے پروین ٹوگرڈیا (46) اور بی جے پی کے رہنما اشونی اوپادھیائے (35) کا نمبر آیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نفرت انگیز تقریروں میں شامل عناصر یہ تھے

سازش پر مبنی بیانات

تشدد کی دعوت

اقلیتوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل

عبادت گاہوں کو ہٹانے یا تباہ کرنے کا مطالبہ

غیر انسانی زبان کا استعمال

اہم اعداد و شمار

656 تقریروں میں “لوو جہاد”، “لینڈ جہاد” اور “پاپولیشن جہاد” جیسی سازشی نظریات شامل تھیں۔

308 تقریروں میں تشدد کی دعوت دی گئی، جن میں سے 136 میں ہتھیار اٹھانے کی اپیل شامل تھی۔

120 تقریروں میں اقلیتوں کے بائیکاٹ کی بات کی گئی۔

276 تقریروں میں مسجدوں، چرچوں اور دیگر مذہبی مقامات کو ہٹانے یا تباہ کرنے کی اپیل کی گئی۔

141 تقریروں میں اقلیتوں کو “ٹرمائٹس، پیرا سائٹس، کیڑے، سور، پاگل کتوں، سانپ اور خون کے پیاسے زومبی” جیسے الفاظ سے غیر انسانی طور پر بیان کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کل واقعات میں سے 1,278 ویڈیوز سب سے پہلے سوشل میڈیا پر شیئر یا لائیو اسٹریمنگ کی گئی تھیں

فیس بک: 942 ویڈیوز

یوٹیوب: 246 ویڈیوز

انسٹاگرام: 67 ویڈیوز

ایکس ویڈیوز: 23

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں نفرت انگیز تقریریں صرف انتخابی موسم تک محدود نہیں رہیں بلکہ پورے سال فعال اور منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی گئیں۔

ہندو قوم پرست گروہوں نے مقامی ریلیوں، مذہبی تقریبات اور جلوسوں کے ذریعے اقلیتوں کے خلاف خوف اور نفرت پھیلانے کی حکمت عملی اپنائی، جس کا مقصد آئندہ ریاستی انتخابات اور 2029 کے عام انتخابات کے لیے سیاسی منظرنامہ تشکیل دینا ہے۔

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔

گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ‘میا’ مسلمانوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، ہمنت بسوا سرما کے بیانات سے تنازع

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بدھ کے روز بنگالی نسل کے مسلمانوں

مسلمانوں پر فائرنگ کا منظر: ہنگامے کے بعد اسام بی جے پی کے پیج سے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما کا ویڈیو ہٹا دیا گیا

اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو