کانپور دیہات کے ملک پور گاؤں میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک دلت کسان کو اس کے ہی پڑوسی اور ان کے رشتے داروں نے نشے کی حالت میں مارپیٹ کر کے شدید زخمی کر دیا، جس کے نتیجے میں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔ واقعے کے بعد گاؤں میں تشویش اور خوف کا ماحول پیدا ہو گیا اور انتظامیہ نے قانون و نظم قائم رکھنے کے لیے بھاری پولیس تعینات کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق، 50 سالہ دیوکنندن پاسوان پر اتوار کی شام کو ان کے پڑوسی گووند سنگھ اور ان کے خاندان کے افراد نے حملہ کیا۔ گووند سنگھ مبینہ طور پر نشے میں پاسوان کے گھر پہنچے اور معمولی بات پر گالی گلوچ شروع کر دی۔ جب دیوکنندن اور ان کی بیوی ممتا نے اس کی مخالفت کی، تو معاملہ بڑھ گیا اور گروپ نے دونوں کو شدید طور پر پیٹا۔
واقعے کے وقت دیوکنندن کی بیٹی گوماٹی نے حملے کو ریکارڈ کرنے کی کوشش کی، لیکن ملزمان نے ان کا موبائل فون چھین لیا اور دور پھینک دیا۔ زخمیوں کو ابتدائی علاج کے لیے مقامی اسپتال لے جایا گیا اور بعد میں سنگین حالت کے سبب کانپور ریفر کر دیا گیا۔ دیوکنندن کی حالت بگڑتی گئی اور پیر کی شام ان کی علاج کے دوران موت ہو گئی۔ ان کی بیوی اب بھی علاج کے زیرِ اثر ہیں۔
پولیس کارروائی اور مقدمہ درج
واقعے کی اطلاع پر شیولی پولیس نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کی۔ ابتدا میں یہ معاملہ مارپیٹ کا تھا، لیکن دیوکنندن کی موت کے بعد اسے قتل کا مقدمہ بنا دیا گیا۔ پولیس نے مرکزی ملزم گووند سنگھ، ان کی بیوی اور کچھ دیگر رشتے داروں سمیت کل چھ ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا ہے۔
ملک پور گاؤں کی مخلوط آبادی کے پیشِ نظر انتظامیہ نے بھاری پولیس نفری تعینات کر دی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال فی الحال قابو میں ہے اور تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے۔
یہ واقعہ اتر پردیش میں دلتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں اس کمیونٹی کے افراد پر کئی پرتشدد حملے ہوئے ہیں۔