نیشنل میڈیکل کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ابھجیت چندرکانت سیٹھ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ آنے والے دو سے تین سالوں میں نیشنل ایگزٹ ٹیسٹ نافذ کیا جائے گا۔ یہ امتحان ایم بی بی ایس کے فائنل ایئر، پوسٹ گریجویٹ داخلہ امتحان اور بیرون ملک تعلیم حاصل کر کے واپس آنے والے طلبہ کے لیے ایف ایم جی ای کی جگہ لے گا۔
ڈاکٹر سیٹھ نے کہا کہ نیشنل ایگزٹ ٹیسٹ ایک مضبوط اور جدید نظام ہے جو بھارت میں طبی تعلیم کا مستقبل متعین کرے گا۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کے خدشات کو دور کیا جا رہا ہے اور یہ امتحان مکمل منظوری کے بعد ہی نافذ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت سرکاری اور نجی میڈیکل ادارے مختلف نظاموں کے تحت کام کر رہے ہیں، جس سے وسائل کا مؤثر استعمال نہیں ہو پا رہا۔ اگر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دونوں ادارے مل کر کام کریں تو تعلیم اور صحت کے شعبے مضبوط ہوں گے اور کم آمدنی والے طلبہ کے لیے بہتر مواقع دستیاب ہوں گے۔
میڈیکل کالجوں کی فیس اور نشستوں کے بارے میں بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ قواعد کے مطابق کل نشستوں کا آدھا حصہ ریاست کے میرٹ پر مبنی طلبہ کے لیے مخصوص ہوگا جبکہ باقی نشستیں انتظامی کوٹے کے تحت الاٹ کی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر سیٹھ نے بتایا کہ اگلے پانچ سالوں میں بیچلر اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر مجموعی طور پر پچھتر ہزار نئی نشستیں شامل کی جائیں گی۔ تعلیمی سال دو ہزار چوبیس سے پچیس میں ہی اٹھارہ ہزار نئی نشستیں بڑھائی جا چکی ہیں۔
بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے واپس آنے والے طلبہ کو زبان، نصاب اور تدریسی نظام کے فرق کی وجہ سے امتحان میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے نیشنل میڈیکل کمیشن نے وزارتِ خارجہ اور داخلہ کے تعاون سے کمیٹی قائم کی ہے۔ کمیٹی بیرونی اداروں اور نیشنل میڈیکل کمیشن کے نصاب کے فرق پر تجاویز دے گی اور اہل اداروں کو منظوری دینے کا عمل طے کرے گی۔
دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی تعداد بڑھانے کے لیے فیملی میڈیسن کے کورس کو تیار کرنا اور نافذ کرنا ضروری ہے۔ اس سے دیہی علاقوں میں صحت کی خدمات کے معیار میں بہتری آئے گی اور ڈاکٹروں کو وہاں خدمات فراہم کرنے کی ترغیب ملے گی۔
نیشنل ایگزٹ ٹیسٹ کیا ہے؟
پوسٹ گریجویٹ داخلہ امتحان کی جگہ: ایم بی بی ایس کے بعد ایم ڈی/ایم ایس کے لیے اب پوسٹ گریجویٹ داخلہ امتحان کی ضرورت نہیں ہوگی، داخلہ نیشنل ایگزٹ ٹیسٹ کے اسکور پر ہوگا۔
ایف ایم جی ای کی جگہ: بیرون ملک تعلیم حاصل کر کے واپس آنے والے طلبہ کو بھارت میں پریکٹس کے لیے نیشنل ایگزٹ ٹیسٹ دینا ہوگا۔
یہ ایک واحد امتحان ہوگا جو بھارت میں طبی تعلیم اور پریکٹس کے عمل کو آسان اور شفاف بنائے گا۔
ڈاکٹر سیٹھ نے کہا کہ نیشنل ایگزٹ ٹیسٹ کے نفاذ کے بعد بھارت کی طبی تعلیم کا نظام یکساں، مضبوط اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوگا۔