مرادآباد، اتر پردیش: امتحان دے کر نکلنے والے طالب علم پر حملہ، مرادآباد میں مسلم طالب علم جھلس گیا، دو ملزمان گرفتار

اتر پردیش کے مرادآباد میں جمعرات کو ہندو کالج کے باہر دن دہاڑے ایک طالب علم پر مبینہ طور پر پٹرول ڈال کر آگ لگانے کے واقعے سے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ اس حملے میں 19 سالہ مسلم طالب علم شدید طور پر جھلس گیا۔ واقعے کے بعد کالج کیمپس میں کشیدگی کا ماحول ہے اور سیکورٹی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پولیس کے مطابق زخمی طالب علم کی شناخت فرہاد علی کے طور پر ہوئی ہے، جو ہندو کالج میں بی کام تیسرے سمسٹر کا طالب علم ہے۔ بتایا گیا ہے کہ امتحان ختم ہونے کے بعد فرہاد کالج گیٹ کے قریب پہنچا ہی تھا کہ کالج کے ہی دو طلبہ نے اس پر آتش گیر مادہ ڈال کر آگ لگا دی۔

اس معاملے میں پولیس نے کالج کے دو طلبہ—آرش سنگھ (21)، بی اے تیسرے سمسٹر، اور دیپک کمار (20)—کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک ملزم پٹرول لے کر آیا تھا، جبکہ دوسرے نے لائٹر سے آگ لگائی۔

عینی شاہدین کے مطابق، آگ لگتے ہی فرہاد کے کپڑوں میں شعلے بھڑک اٹھے۔ موقع پر موجود طلبہ اور راہگیروں نے فوری طور پر پانی اور کپڑوں کی مدد سے آگ بجھائی اور اسے قریبی نجی اسپتال لے گئے۔ بعد میں اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے اسے ضلع اسپتال ریفر کر دیا گیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق فرہاد کو تقریباً آٹھ فیصد جلنے کی چوٹیں آئی ہیں، جو زیادہ تر اس کی رانوں پر ہیں۔ فی الحال اس کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے اور علاج جاری ہے۔

واقعے کے ایک دن بعد فرہاد علی نے پولیس کی اس ابتدائی رائے کو مسترد کر دیا، جس میں آگ لگنے کو حادثہ قرار دیا گیا تھا۔ اسپتال میں دیے گئے بیان میں اس نے کہا کہ حملہ پوری طرح منصوبہ بند تھا۔ فرہاد کے مطابق ملزمان نے جان بوجھ کر اس پر پٹرول ڈالا اور لائٹر سے آگ لگائی۔

متاثرہ طالب علم کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مرادآباد سٹی ایس پی کمار رن وجے سنگھ نے بتایا کہ ابتدائی جانچ میں پٹرول جیسے آتش گیر مادے کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔ فارنسک نمونے جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے۔

فی الحال حملے کے محرکات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گواہوں کے بیانات درج کر لیے گئے ہیں اور معاملے کی گہرائی سے تفتیش جاری ہے۔

ہندو کالج شہر کے قدیم تعلیمی اداروں میں شامل ہے۔ واقعے کے بعد کالج کیمپس اور آس پاس کے علاقوں میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ اس واقعے سے طلبہ اور والدین میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور