جموں و کشمیر کے ریاسی ضلع میں واقع شری ماتا وشنو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کے ایم بی بی ایس کورس کے لیے نیشنل میڈیکل کمیشن نے تعلیمی سال ۲۰۲۵–۲۶ کی اجازت منسوخ کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کالج کی پہلی داخلہ فہرست میں زیادہ تر امیدوار مسلمان طلبہ تھے، جس پر مقامی ہندو توا گروپوں نے شدید احتجاج کیا۔
کمیشن نے اجازت منسوخ کرنے کی رسمی وجہ ادارے میں سنگین تکنیکی اور تعلیمی خامیوں کو قرار دیا ہے۔ کالج میں فل ٹائم قابل اساتذہ کی کمی، کلینیکل وسائل کی ناکافی دستیابی اور رہائشی ڈاکٹروں کی کم تعداد جیسی مسائل پائی گئی ہیں۔ کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال میں کالج کا چلانا طلبہ کی تعلیم کے معیار اور مستقبل پر سنگین اثر ڈال سکتا ہے۔
کالج کے پہلے بیچ میں ۵۰ نشستوں میں سے ۴۴ طلبہ مسلمان اور صرف ۶ ہندو طلبہ جموں سے منتخب ہوئے تھے، جن میں سے صرف تین ہندو طلبہ نے کورس جوائن کیا۔ داخلہ فہرست جاری ہونے کے بعد شری ماتا وشنو دیوی سنگھرش کمیٹی، بی جے پی، آر ایس ایس، شیوسینا اور بجرنگ دل کے اراکین نے احتجاج کیا اور ہندو طلبہ کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازعہ سے واضح ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں مذہب اور سیاست کا دخل طلبہ کے کیریئر اور تعلیم کے معیار پر خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔
مقامی طلبہ اور والدین میں اس فیصلے کے حوالے سے تشویش اور بے چینی کا ماحول ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کالج انتظامیہ اور کمیشن اس صورتحال کا حل کیسے نکالتے ہیں اور اگلے تعلیمی سال کے لیے داخلہ عمل کب دوبارہ شروع ہوتا ہے۔