تلنگانہ کی کانگریس حکومت کی جانب سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کی 50 ایکڑ زمین سے متعلق جاری کردہ شوکاز نوٹس نے یونیورسٹی کیمپس میں شدید بے چینی اور سیاسی و تعلیمی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ رنگا ریڈی ضلع کلکٹر دفتر نے یونیورسٹی انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے کہ منی کونڈا گاؤں کے سروے نمبر 211 اور 212 میں واقع مبینہ طور پر ’’غیر استعمال شدہ‘‘ زمین کو اب تک استعمال میں کیوں نہیں لایا گیا اور کیوں نہ اسے حکومت دوبارہ اپنے اختیار میں لے لے۔
یونیورسٹی ذرائع کے مطابق یہ نوٹس حال ہی میں مانو کے رجسٹرار اشتیاق احمد کو بھیجا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ زمین کا استعمال اس مقصد کے مطابق نہیں کیا گیا، جس مقصد کے لیے یہ زمین الاٹ کی گئی تھی۔
اس سلسلے میں یونیورسٹی کے ایک افسر نے میڈیا کو بتایا کہ خالی پڑی زمین پر تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق تجاویز موجود ہیں، جن میں کالج، اکیڈمک بلاک اور دیگر ادارہ جاتی سہولیات شامل ہیں۔ افسر کے مطابق مانو ایک مرکزی یونیورسٹی ہے، جس کا قیام 1998 میں عمل میں آیا، اور ایسے اداروں میں پوری الاٹ شدہ زمین کا محدود مدت میں مکمل استعمال ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، سنٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ اور دیگر مرکزی ایجنسیوں کی منظوری کے طویل مراحل کے باعث ترقیاتی کاموں میں تاخیر ایک فطری عمل ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ جلد ہی تلنگانہ حکومت کو ایک تفصیلی تحریری جواب پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں زمین کے آئندہ استعمال کے منصوبے کو واضح کیا جائے گا۔
اس نوٹس کے خلاف ’’مانو کے طلبہ تنظیموں کا مشترکہ پلیٹ فارم (اسٹوڈنٹس کلیکٹو)‘‘ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ مشترکہ پلیٹ فارم نے اسے محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ عوامی جامعات کی زمین کو ریاستی کنٹرول میں لینے کی ایک خطرناک روش قرار دیا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی زمین سے جڑے تنازعے کی یاد دلاتا ہے، جہاں یونیورسٹی زمین کو تعلیمی وسیلے کے بجائے رئیل اسٹیٹ کی طرح دیکھا گیا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ مانو کی زمین طلبہ، اساتذہ اور آنے والی نسلوں کی مشترکہ وراثت ہے اور ’’غیر استعمال‘‘ کے بہانے اسے چھینا نہیں جا سکتا۔
طلبہ تنظیموں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس نوٹس کو ایک سنجیدہ انتباہ سمجھے اور زمین کے استعمال کا عمل فوری طور پر شروع کرے، تاکہ ہاسٹلوں، تعلیمی عمارتوں اور ضروری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ممکن ہو سکے، کیونکہ مانو اس وقت شدید ہاسٹل بحران سے دوچار ہے۔
آل انڈیا آزاد اسٹوڈنٹس لیگ (اے ایس ایل) مانو نے کانگریس حکومت کے اس اقدام کو ’’دھمکانے اور زمین ہڑپنے کی سیاست‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ نوٹس آئینی طور پر محفوظ ایک مرکزی یونیورسٹی پر براہ راست حملہ ہے۔
اے ایس ایل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مانو کسی بھی قسم کی زبردستی، دباؤ یا انتظامی بلیک میلنگ کو قبول نہیں کرے گا۔ تنظیم نے نوٹس کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یونیورسٹی کی زمین پر کسی بھی طرح کی مداخلت طلبہ کے متحد اور جمہوری احتجاج کو جنم دے گی۔
اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او) مانو نے جاری بیان میں تلنگانہ کی کانگریس حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جو حکومت خود کو اقلیتوں کے حقوق کا محافظ بتاتی ہے، وہی اب مرکزی جامعات کی زمین پر نظر جمائے بیٹھی ہے۔
ایس آئی او کے مطابق پہلے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اور اب مانو کی زمین کو ’’غیر استعمال شدہ‘‘ قرار دے کر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ اردو یونیورسٹی کی زمین یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور خدمات انجام دینے والے تدریسی و انتظامی عملے کی اجتماعی امانت ہے۔ اگر کسی نے طاقت یا انتظامی اختیار کے ذریعے اس زمین پر قبضے کی کوشش کی تو اسے ویسی ہی قانونی اور عوامی تحریک کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے معاملے میں دیکھا گیا تھا۔
اے بی وی پی مانو نے بھی شوکاز نوٹس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے قائم کی گئی ایک مرکزی یونیورسٹی کو ’’اضافی جائیداد‘‘ سمجھنا نہایت خطرناک سوچ ہے۔ تنظیم نے کانگریس حکومت پر عوامی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
وہیں اے یو ایس ایف مانو نے کہا کہ مانو کوئی رئیل اسٹیٹ نہیں ہے۔ یہ زمین تعلیم، طلبہ اور اقلیتی بااختیاری کے لیے ہے اور ’’ایک انچ زمین بھی نہیں دی جائے گی‘‘۔
رنگا ریڈی ضلع کلکٹر سی نارائن ریڈی نے تصدیق کی ہے کہ یونیورسٹی کو شوکاز نوٹس بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے اسے 2024 میں کی گئی ایک معمول کی آڈٹ کارروائی کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یونیورسٹی کے جواب کے بعد حکومت اگلا قدم طے کرے گی۔
قابل ذکر ہے کہ مانو کا قیام 1998 میں عمل میں آیا تھا اور یونیورسٹی کو تقریباً 200 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی تھی۔ 50 ایکڑ زمین کو لے کر پیدا ہونے والا یہ تنازع اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ عوامی تعلیمی اداروں کی خود مختاری، اقلیتی حقوق اور ریاستی پالیسی سے جڑا ایک بڑا سوال بن کر سامنے آیا ہے۔