ہماچل پردیش: سرکاری کالج میں دلت طالبہ کی موت، ریگنگ سے لے کر جنسی ہراسانی تک کے الزامات؛ انسانی حقوق تنظیموں کا گرفتاری کا مطالبہ

ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں واقع ایک سرکاری ڈگری کالج میں انیس سالہ دلت طالبہ کی موت نے ملک کے تعلیمی اداروں میں رائج ذات پات پر مبنی امتیاز، صنفی استحصال اور انتظامی بے حسی پر ایک بار پھر سنگین سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ دلت حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ موت کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری ادارہ جاتی تشدد کا نتیجہ ہے۔

دلت آدیواسی شکتی ادھیکار منچ اور اس کی خواتین شاخ مہلا کامکاجی منچ کے مطابق، طالبہ کو کئی مہینوں تک ریگنگ، ذہنی اذیت اور جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سنگین شکایات کے باوجود کالج انتظامیہ نے نہ بروقت مداخلت کی اور نہ ہی متاثرہ طالبہ کو تحفظ یا ذہنی صحت سے متعلق کوئی مدد فراہم کی۔

تنظیموں کا کہنا ہے کہ طالبہ بار بار بیمار پڑتی رہی، اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا اور اس میں شدید ذہنی دباؤ کی واضح علامات موجود تھیں۔ اس کے باوجود کالج کی جانب سے کوئی ساختی یا حساس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حقوقی گروہوں کے مطابق یہ معاملہ ذہنی صحت کی نگہداشت سے متعلق قانون اور آئین کے تحت وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

طالبہ کے والد کی شکایت پر درج مقدمے میں تین سینئر طالبات — ہرشتا، آکرتی اور کومولیکا — پر ریگنگ، تضحیک، دھمکی اور جسمانی اذیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ متاثرہ طالبہ کا تعلق درج فہرست ذات سے تھا، جس کے باعث یہ معاملہ مزید حساس ہو جاتا ہے۔

مقدمے میں کالج کے ایک پروفیسر اشوک کمار کا نام بھی شامل ہے، جن پر جنسی طور پر نامناسب رویے، تعلیمی اختیارات کے غلط استعمال اور ہراسانی کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ دلت حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا رویہ تعلیمی احاطے کو غیر محفوظ اور خوف زدہ ماحول میں تبدیل کر دیتا ہے۔

دلت آدیواسی شکتی ادھیکار منچ کے مطابق یہ معاملہ درج فہرست ذات و قبائل کے خلاف مظالم کی روک تھام سے متعلق قانون کے دائرے میں آتا ہے، جس میں ذات کی بنیاد پر تذلیل، دھمکانا اور دلت خاتون کے خلاف جنسی تشدد سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فوجداری قوانین کے تحت لگائی گئی دفعات کو بھی اسی قانون کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جانا چاہیے۔

تنظیموں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ قانون کے تحت ایسے معاملات میں پیشگی ضمانت کی گنجائش نہیں ہوتی، اس کے باوجود اب تک کسی کی گرفتاری نہ ہونا نظامِ انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

دلت حقوق تنظیموں نے کالج انتظامیہ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شکایات کو نظرانداز کرنا فرائض سے سنگین غفلت کے مترادف ہے، جو خود قانوناً قابلِ سزا جرم ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو تحفظ، مالی معاوضہ اور بازآبادکاری فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ریگنگ سے متعلق الزامات ریاست کے تعلیمی اداروں میں ریگنگ کی ممانعت سے متعلق قانون کے تحت آتے ہیں، جبکہ پروفیسر پر عائد الزامات کام کی جگہ پر خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی کی روک تھام سے متعلق قوانین کے دائرے میں شامل ہیں۔

تنظیموں نے قومی انسانی حقوق کمیشن اور قومی خواتین کمیشن سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کالج کے پرنسپل اور ریاست کے وزیرِ تعلیم کے استعفے، ملزم پروفیسر کی ملازمت سے برطرفی اور نامزد طالبات کے اخراج کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

دلت حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں دلت خواتین کے خلاف تشدد محض ایک فرد کا ذاتی سانحہ نہیں بلکہ یہ پورے سماجی ڈھانچے کی بے حسی اور ناکامی کو عیاں کرتا ہے۔ یہ واقعہ اعلیٰ تعلیم میں برابری اور تحفظ کے دعوؤں کی ایک سخت اور کڑی آزمائش ہے۔

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔

گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ‘میا’ مسلمانوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، ہمنت بسوا سرما کے بیانات سے تنازع

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بدھ کے روز بنگالی نسل کے مسلمانوں

مسلمانوں پر فائرنگ کا منظر: ہنگامے کے بعد اسام بی جے پی کے پیج سے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما کا ویڈیو ہٹا دیا گیا

اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو