اتر پردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ کے رنجیت پور چلبیلا علاقے میں مذہبی عقیدت سے وابستہ کربلا کی زمین پر مبینہ طور پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں وجے موریہ سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی تھی، تاہم انتظامیہ نے صورتِ حال کو قابو میں ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ واقعہ منگل کی صبح چلبیلا فلائی اوور کے قریب، ایودھیا–پریاگ راج قومی شاہراہ کے کنارے پیش آیا، جب وجے موریہ کی قیادت میں چند افراد دو جے سی بی مشینوں کے ساتھ موقع پر پہنچے اور زمین کو ہموار کرنے لگے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین کربلا سے متعلق ہے، جہاں محرم کے دوران مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔
صبح تقریباً ساڑھے نو سے دس بجے کے درمیان جیسے ہی جے سی بی چلنے کی اطلاع پھیلی، آس پاس کے علاقوں میں افرا تفری مچ گئی۔ کربلا کمیٹی کے ارکان، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، موقع پر پہنچے اور احتجاج کیا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ اس دوران ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی، دھمکیاں دی گئیں اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، جس سے حالات مزید بگڑ گئے۔
اطلاع ملنے پر سرکل آفیسر (سٹی) پرشانت راج ہُڈّا، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (مشرقی) شیلندر لال، سب ڈویژنل مجسٹریٹ (صدر) نینسی سنگھ اور کوتوالی نگر کے انچارج محمد ابرار انصاری کی قیادت میں متعدد تھانوں کی پولیس موقع پر پہنچی۔ دیہات کوتوالی، کوہنڈور اور انتو تھانہ علاقوں کی پولیس بھی تعینات کی گئی۔ پولیس نے صورتِ حال پر قابو پاتے ہوئے دونوں جے سی بی مشینوں کو ضبط کر لیا۔
محرم کمیٹی کے صدر حیدر علی کی تحریری شکایت پر ملزمان کے خلاف مارپیٹ، بلوہ، مذہبی جذبات مجروح کرنے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور خواتین کی عزت و وقار مجروح کرنے سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے وجے موریہ، وشال موریہ، انوپ شری واستو اور انکت جیسوال کو گرفتار کر لیا۔
انتظامی افسران کے مطابق یہ تنازع پرانا ہے اور کربلا کمیٹی اور مقامی رہائشی رام شیرو منی پانڈے کے درمیان تعزیہ دفن کرنے کے معاملے پر طویل عرصے سے عدالت میں مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔ اس مسئلے پر پہلے بھی کئی بار کشیدگی پیدا ہو چکی ہے، جس پر انتظامیہ کو مداخلت کرنا پڑا تھا۔
ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فی الحال صورتِ حال حساس ضرور ہے، لیکن مکمل طور پر قابو میں ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ واقعے کے باعث کچھ وقت کے لیے فلائی اوور پر ٹریفک متاثر ہوا، جسے بعد میں معمول پر لے آیا گیا۔