غازی آباد ضلع کے شالی مار گارڈن تھانہ علاقے میں عوامی امن و امان خراب کرنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کے الزام میں ہندوتوا تنظیم، ہندو رکشا دَل کے 10 اراکین کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس معاملے میں درج ایف آئی آر میں کل 41 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں 16 کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ 25 سے 30 ملزمان ابھی نامعلوم ہیں۔
پولیس کے مطابق الزام ہے کہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد ایک رہائشی کالونی میں ریلی نکالتے ہوئے کھلے عام تلواریں لہرا رہے تھے اور مسلم مخالف نعرے لگا رہے تھے۔ اس دوران مبینہ طور پر لوگوں میں تلواریں بھی تقسیم کی گئیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس اور تناؤ کا ماحول پیدا ہوا۔ واقعے سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کیس کا نوٹس لیا۔
شالی مار گارڈن کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر، اتل کمار سنگھ نے بتایا کہ وائرل ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت کی گئی اور اب تک 10 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں ہندو رکشا دَل کے قومی صدر بھوپندر چودھری المعروف پنکی کا نام بھی ایف آئی آر میں درج ہے، جو اس وقت فرار ہیں۔
پولیس کے مطابق وائرل ویڈیو میں بھوپندر چودھری مبینہ طور پر بنگلہ دیش کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے ہندوؤں سے ہتھیار رکھنے کی اپیل کرتے سنے گئے ہیں۔ ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہونے والی تشدد کے پیش نظر لوگوں کو خود کی حفاظت کے لیے تلواریں رکھنی چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم “ہر جہادی کو اس کی زبان میں جواب دے گی”۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ بیان بنگلہ دیش کے مایمن سنگھ ضلع میں 18 دسمبر کو پیش آنے والے واقعے سے جڑا ہوا ہے، جہاں ایک فیکٹری مزدور کو مبینہ طور پر بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ کسی غیر ملکی واقعے کے نام پر بھارت میں ہتھیاربند مظاہرہ اور اشتعال انگیز تقریر قانونی جرم ہے۔
ایف آئی آر میں الزام ہے کہ ملزمان ہتھیاروں کے ساتھ علاقے میں مارچ کر رہے تھے، جس سے عام شہریوں میں خوف پیدا ہوا اور عوامی نظم و نسق متاثر ہوا۔ اس معاملے میں بھارتی فوجداری قانون کی دفعات کے تحت دنگے، مہلک ہتھیاروں کے ساتھ دنگے، غیر قانونی روک تھام اور فوجداری قانون میں ترامیم کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔
غازی آباد کے پولیس ڈپٹی کمشنر، نمیش پٹیل نے کہا کہ تحقیقات کے دوران حقائق کی بنیاد پر مزید دفعات شامل کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فرار ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
پولیس حکام نے کہا کہ قانون و نظم و نسق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف کام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حفاظتی طور پر علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے اور سوشل میڈیا پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔