چھتیس گڑھ کے رام نارائن بھاگل (31) کو 17 دسمبر کو کیرالہ کے پَلَکڑ ضلع کے والیار میں بھیڑ نے پٹ کر قتل کر دیا۔ وہ روزگار کی تلاش میں کیرالہ آئے تھے اور کسی رشتہ دار کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس وحشیانہ واقعے نے پورے ملک میں غصہ اور تشویش پیدا کر دی ہے۔
رام نارائن کے بھائی ششیکانت بھاگل نے ایک ویڈیو پیغام میں الزام لگایا کہ ان کے بھائی کا قتل ذات اور مذہب کی بنیاد پر کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ سنگھ پریوار تنظیموں پر پابندی لگائی جائے، کیونکہ ایسے گروہ لوگوں کو ذات اور مذہب کے نام پر نشانہ بناتے ہیں۔
کیرل کی سیاسی جماعتوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے فرقہ وارانہ نفرت کی سیاست قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ نفرت انگیز جرائم اب صرف شمالی بھارت تک محدود نہیں رہے بلکہ جنوبی بھارت میں بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
کیرل پولیس نے اس معاملے میں اب تک پانچ سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں بعض بی جے پی–آر ایس ایس کارکن بھی شامل ہیں۔ ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور معاملے کی گہرائی سے جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، رام نارائن کو چوری یا “بنگلہ دیشی” ہونے کے شبہ میں گھیر کر پیٹا گیا، جس سے شدید سر کے زخم آئے اور ان کی موت ہو گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ موت کی بنیادی وجہ شدید سر کے زخم تھے۔
کیرل حکومت نے مرحوم کے اہل خانہ کو کم از کم 10 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ صرف معاوضہ کافی نہیں ہے، بلکہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی اور سماجی نفرت کی سیاست پر پابندی بھی ضروری ہے۔
رام نارائن اپنی بیوی، دو چھوٹے بچوں اور والدہ کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔