اتر پردیش حکومت نے ریاست کے تمام سرکاری بیسک اور ثانوی اسکولوں میں طلبہ کے لیے اخبار پڑھنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب اسکولوں میں صبح کی دعائیہ اسمبلی کے دوران روزانہ 10 منٹ خبروں کا مطالعہ کیا جائے گا, حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ میں مطالعے کی عادت پیدا کرنا، ڈیجیٹل اسکرین پر انحصار کم کرنا اور عمومی معلومات میں اضافہ کرنا ہے۔
اس سلسلے میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری (بیسک و ثانوی تعلیم) پارتھ سارتھی سین شرما کی جانب سے 23 دسمبر 2025 کو باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ حکم نامے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ اسکولوں میں اردو/ہندی اور انگریزی زبانوں کے کاغذی اخبارات باقاعدگی سے فراہم کیے جائیں اور طلبہ کو ان کے مطالعے کی ترغیب دی جائے۔
حکم کے مطابق، دعائیہ اسمبلی کے دوران طلبہ باری باری قومی، بین الاقوامی، کھیل اور سماجی موضوعات سے متعلق اہم اور مثبت خبروں کی قرأت کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اداریہ کے منتخب حصے بھی پڑھ کر سنائے جائیں گے، تاکہ طلبہ میں غور و فکر اور منطقی صلاحیت کو فروغ دیا جا سکے۔
محکمۂ تعلیم کا ماننا ہے کہ موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے بڑھتے استعمال سے طلبہ کی یکسوئی متاثر ہو رہی ہے۔ ایسے میں کاغذی اخبار کا مطالعہ نہ صرف اسکرین ٹائم میں کمی لائے گا بلکہ مطالعے کی ثقافت کو بھی فروغ دے گا۔
سرکاری افسران کے مطابق، باقاعدگی سے اخبار پڑھنے سے طلبہ کی عمومی معلومات اور حالاتِ حاضرہ مضبوط ہوں گے، جس سے مستقبل میں مختلف مسابقتی امتحانات کی تیاری میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی زبان دانی اور تحریری صلاحیت میں بھی بہتری آنے کی امید ہے۔
حکم نامے میں اخبارات میں شائع ہونے والی سوڈوکو، کراس ورڈ اور لفظی پہیلیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جنہیں طلبہ کی منطقی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو فروغ دینے میں معاون قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سماجی اور انسانی مسائل سے متعلق خبریں طلبہ میں حساسیت اور سماجی شعور پیدا کریں گی۔
اگرچہ یہ حکم فی الحال سرکاری اسکولوں کے لیے جاری کیا گیا ہے، تاہم محکمۂ تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر نجی یا دیگر تعلیمی ادارے اسے مفید سمجھیں تو وہ بھی اس نظام کو اپنا سکتے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق، اگر اس اقدام پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا گیا تو یہ طلبہ کو نصابی کتب تک محدود رکھنے کے بجائے معاشرے اور عصری حالات سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔