سرکاری شعبے کے بڑے بینک پنجاب نیشنل بینک (پی.این.بی) نے SREI گروپ سے وابستہ دو کمپنیوں کے مجموعی طور پر 2,434 کروڑ روپے کے قرض کھاتوں کو فراڈ کے طور پر درجہ بند کیا ہے۔ بینک نے اس معاملے سے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) اور اسٹاک ایکسچینجوں کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ یہ انکشاف جمعہ کو بازار بند ہونے کے بعد جمع کرائی گئی ریگولیٹری فائلنگ میں سامنے آیا۔
پی.این.بی کے مطابق، SREI ایکوپمنٹ فنانس لمیٹڈ (SEFL) سے متعلق قرض کھاتوں میں 1,240.94 کروڑ روپے جبکہ SREI انفراسٹرکچر فنانس لمیٹڈ (SIFL) سے جڑے کھاتوں میں 1,193.06 کروڑ روپے کی رقم کو فراڈ کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔ بینک نے واضح کیا ہے کہ دونوں معاملات میں پوری واجب الادا رقم پر پہلے ہی 100 فیصد پروویژننگ کی جا چکی ہے۔
بینک کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، SREI گروپ کی ان دونوں کمپنیوں پر مجموعی طور پر تقریباً 32,700 کروڑ روپے کا قرض تھا۔ شدید مالی بحران، نقدی کی کمی اور مبینہ بدانتظامی کے باعث ان کمپنیوں کے خلاف انسالونسی اینڈ بینکروپسی کوڈ (IBC) کے تحت کارروائی شروع کی گئی تھی۔ دسمبر 2023 میں نیشنل ایسٹ ریکنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ (NARCL) نے حل کے عمل کے تحت ان کمپنیوں کا حصول کیا تھا۔
اس سے قبل، اکتوبر 2021 میں ریزرو بینک آف انڈیا نے سنگین مالی بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کے الزامات کے درمیان SIFL اور اس کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی SEFL کے بورڈ کو تحلیل کر دیا تھا۔ اس وقت ان کمپنیوں کا کنٹرول کولکاتا میں قائم کنوریا خاندان کے پاس تھا۔ اس کے بعد RBI کی نگرانی میں ان کمپنیوں کے لیے حل کا عمل آگے بڑھایا گیا۔
چونکہ فراڈ سے متعلق یہ اطلاع بازار بند ہونے کے بعد سامنے آئی، اس لیے شیئر بازار پر اس کا فوری اثر محدود رہا۔ جمعہ کے روز پی.این.بی کے شیئرز بمبئی اسٹاک ایکسچینج (BSE) میں 0.50 فیصد کمی کے ساتھ 120.35 روپے پر بند ہوئے۔
پی.این.بی نے حال ہی میں ایک اور ایکسچینج فائلنگ میں بتایا تھا کہ بینک کے اثاثوں کے معیار میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ بینک کے مطابق، بہتر ریکوری، کھاتوں کی اپ گریڈیشن اور نئے سلپیج میں کمی کے باعث گراس نان پرفارمنگ اثاثے (NPA) ستمبر 2024 کے اختتام پر 47,582 کروڑ روپے سے گھٹ کر ستمبر 2025 کے اختتام تک 40,343 کروڑ روپے رہ گئے ہیں۔
بینکنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ پی.این.بی پہلے ہی متعلقہ قرض کھاتوں میں مکمل پروویژننگ کر چکا ہے، اس لیے اس معاملے کا بینک کی مالی حالت پر طویل مدتی اثر محدود رہنے کا امکان ہے۔ تاہم، بار بار سامنے آنے والے اس طرح کے بڑے قرض فراڈ کے معاملات ملک کے بینکاری نظام، نگرانی کے طریقۂ کار اور کارپوریٹ گورننس پر سنگین سوالات ضرور کھڑے کرتے ہیں۔