کیرالہ کے ضلع پلکڑ کے اٹاپڈی علاقے میں 26 سالہ قبائلی نوجوان پر مبینہ طور پر جڑی بوٹی چوری کے شبہے میں حملہ کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ شدید طور پر زخمی نوجوان کا علاج جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے پولیس پر معاملے میں لاپروائی برتنے اور ملزمان کے خلاف ہلکی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق، پلور کے رہائشی منیکندن پر 7 دسمبر کو ایک دوائی پودے کی جڑ چوری کرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اسی بنیاد پر دوائی پودوں کے تھوک تاجر رام راج نے اس کے ساتھ مارپیٹ کی۔ اہل خانہ کے مطابق، حملے کے دوران منیکندن کے سر میں شدید چوٹیں آئیں۔
واقعے کے دو دن بعد، 9 دسمبر کو منیکندن کوژیکوڈ میں ایک انتخابی مہم کے دوران قبائلی ساز بجاتے ہوئے شریک تھا۔ پروگرام کے دوران وہ اچانک زمین پر گر پڑا، جس کے بعد اسے فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ طبی جانچ میں اس کے سر کی ہڈی میں فریکچر اور اندرونی چوٹوں کی تصدیق ہوئی۔ فی الحال اس کا علاج اٹاپڈی ٹرائبل تعلقہ اسپیشلٹی اسپتال میں جاری ہے۔
متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ اسپتال میں داخل ہونے کے باوجود پولیس نے ابتدا میں معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف صرف معمولی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ زخموں کی نوعیت نہایت سنگین ہے۔ خاندان نے ملزم کے خلاف اقدامِ قتل اور درج فہرست ذات و درج فہرست قبائل (انسدادِ مظالم) ایکٹ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق، 16 دسمبر کو متاثرہ نوجوان کا بیان درج کیا گیا۔ اس کے بعد پوتھور پولیس نے ملزم رام راج کے خلاف بھارتی نیائے سنہتا کی دفعات 126(2) (غلط طریقے سے روکنا) اور 115(2) (جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور طبی رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
اس واقعے پر سماجی تنظیموں اور قبائلی حقوق کے کارکنوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اٹاپڈی علاقے میں قبائلیوں کے خلاف تشدد کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں، تاہم بیشتر معاملات میں سخت قانونی کارروائی نہیں ہو پاتی۔
اٹاپڈی کا یہ واقعہ ایک بار پھر قبائلی تحفظ اور پولیس و انتظامیہ کی حساسیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔