اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی میں ایک سنگین اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر پر اپنی ہم پیشہ خاتون ڈاکٹر کو شادی کا جھانسہ دے کر جنسی استحصال کرنے، زبردستی حمل ختم کروانے اور مذہب تبدیل کر کے شادی کرنے کا دباؤ ڈالنے کا الزام لگا ہے۔ پولیس نے ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم اور متاثرہ دونوں ایک ہی ادارے میں جونیئر ریزیڈنٹ ہیں۔ ملزم نے پہلے خود کو کنوارہ بتایا اور شادی کا وعدہ کر کے متاثرہ کو اپنے کرایے کے مکان پر بلایا، جہاں مبینہ طور پر اس نے اس کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کیے۔
جب متاثرہ کے حاملہ ہونے کا پتہ چلا تو ملزم نے اسے حمل ختم کروانے کی دوائیں دی اور اسے زبردستی حمل ختم کروایا۔
بعد میں متاثرہ کو معلوم ہوا کہ ملزم پہلے سے شادی شدہ ہے۔ جب متاثرہ نے شادی کے لیے دباؤ ڈالا تو ملزم نے کہا کہ وہ صرف اسی صورت شادی کرے گا جب متاثرہ اسلام قبول کرے گی۔ متاثرہ نے مذہب تبدیل کرنے سے انکار کیا، جس کے بعد ملزم نے اسے دھمکیاں دینا اور ذہنی اذیت پہنچانا شروع کر دی۔
مسلسل ذہنی دباؤ اور دھمکیوں سے تنگ آ کر متاثرہ نے 17 دسمبر کو نیند کی گولیوں کا اوورڈوز کیا۔ اسے علاج کے لیے اسپتال داخل کرایا گیا اور اب وہ اپنے خاندان کے ساتھ محفوظ ہے۔
پولیس نے ملزم کے خلاف بھارتی فوجداری ضابطہ کی دفعات 69 (دھوکے سے جنسی تعلق قائم کرنا)، 89 (رضامندی کے بغیر حمل ختم کروانا) اور 351 (جرم کے ارادے سے دھمکی دینا) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے علاوہ، ملزم کے خلاف مذہب تبدیل کرنے کے مخالف قانون کے تحت بھی کارروائی کی گئی ہے۔
یونیورسٹی نے وِشاکھا گائیڈ لائنز کے تحت قائم داخلی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ملزم کو معطل کر دیا ہے۔ معطلی کے دوران اسے کیمپس میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اتر پردیش حکومت اور خواتین کمیشن نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ سخت تفتیش اور کارروائی کی جائے گی تاکہ ایسے کسی بھی استحصال اور زبردستی مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کو منصفانہ طور پر جانچا اور سزا دی جا سکے۔